تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 154 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 154

۱۵۲ داخل ہونے ہی والا تھا کہ سٹر بشیر نے اپنے دفاع میں چند گولیاں چلائیں۔ایک خاص فوجی عدالت نے اس کے اس فعل پر مقدمہ چلایا۔لیکن وہ بری کر دیئے گئے۔۷٫۶ مارچ کی رات کو عبد الحکیم مالک پانویہ الیکٹرک اینڈ بیٹری سٹیشن کے مکان پر چھا پہ مارا گیا۔اور ان کی بوڑھی والدہ قتل کر دی گئی پیشہ فاضل ججوں نے چھ مارچ کو سینٹ بارتھالو میوڈ سے Day) Saint Bortholomew's قرار دے کر فرانس کی مذمبی تاریخ کے اُن خونچکاں واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جو ۲۴ اگست کو وقوع پذیر ہوئے جبکہ فرانس کے اکثریتی عیسائی فرقہ رومن کیتھولک نے مسیحی کلیسیا کے دینی مصلح مارٹن لیو تھر کے پراٹسٹنٹ معتقدوں کا ر جو ہیوگوناٹ Huguenols کہلاتے تھے نہایت بیدردی سے قتل عام کیا موترخ سولی مقتولین کی تعداد کا اندازہ ستر ہزار بتاتا ہے گرلارڈ کیٹن آٹھ ہزار اور اسے جھے گرانٹ کے خیال میں دس ہزار قتل ہوئے۔اس وقت فرانس پر چالیس نہم Charles lx بادشاہ تھا اور کیتھرین ڈی میڈی چی Cathrine De Medici) ملکہ تھی یہ دونوں کیتھولک تھے مگر اُن کے دربار کا ایک مستانہ رکن ایڈمرل ڈی لگنی Coligny پر انسٹنٹ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا کیتھرین کو کا لگنی کے روز افزوں اثر کو دیکھے کہ یہ حسد اور خوف پیدا ہوا کہ اگر کوئی تدبیر نہ کی گئی تو بہت جلد اس کا اقتدار نزائل ہو کر امور سلطنت میں وہ بے اثر ہو کر رہ جانے گا۔اُس نے پہلے تو کا لگتی و Cloigny ) کو قتل کرانے کی سازش کی جس میں ناکامی کے بعد بادشاہ کے بھائی بہتری اور ہنری ڈیوک گائنز اور پیرس کے دیگر عمامہ کے ساتھ منصوبہ باندھا کہ پیرس کے مذہبی دیوانوں اور عوام کوہ کا لگنی کے ہم مذہب فرقہ کو واجب القتل بتلا کہ اس کے خلاف مشتعل اور برانگیختہ کر دیا جائے۔بادشاه چارلس نہم اگر چہ کا لگنی سے محبت والنس رکھتا تھا ، اس کے فرقہ ہو گناٹ (Hugenoi) کو موت کے گھاٹ اتارنے پر آمادہ ہوگیا کیونکہ اس کو باور کرایا گیا کہ خود اس کی زندگی خطرے میں ہے۔اس قتل عام کو میڈرڈ اور روم میں فتح قرار دیا گیا اور اس پر بہت خوشیاں منائی گئیں۔جماعت احمدیہ کے خلاف بھی ازروئے شریعت مرتد اور سنگسار کیے جانے کا مطالبہ کئی رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ۱۰۱ 643۔Collier's Encyclopaedia Vol Ill Pg مطبوعہ امریکہ و برطانیه ۱۹۶۷ء