تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 150
۱۴۸ ہمارے آنے سے تقریبا ایک گھنٹہ بعد کھوکھا مذکور کو آگ لگا دی گئی تھی۔صبح سات مارچ کو تقریبا گیارہ بجے دن کے ایک حوالدار صاحب پولیس بلا در دی سفید کپڑوں میں آئے اور ہمیں کہا کہ اپنے مکان کو فضل لگا لو اور وہاں سے اپنا ضروری سامان بھی لے آؤ۔ہم اس کے ساتھ چار کس مع ایک بچہ کے اپنے مکان واقع چوڑی گلی ریل بازار کی طرف روانہ ہو گئے۔چوڑی گلی کے مشرقی حصہ کی جانب ایک تھانیدار صاحب مع وردی کھڑے تھے انہوں نے ایک حوالدار صاحب کو رہو کا کہ بلا اور دی انہیں تم ساتھ کیوں لائے ہو۔ہم نے اپنے مکان پر پہنچ کر سامان ریڑھے پر رکھا تھا کہ ہمارے سامان کو ریڑھے سے اتروا کر رکھ دیا گیا اور کہا گیا کہ ہمارے نوجوان اس قدر گورنمنٹ نے گولیوں سے مار دیئے ہیں اور یہ سب انہی کی باعث ہوا ہے اور ان کو اور ان کے سامان کو کیوں جانے دیں۔قریب تھا کہ یہ لوگ اشتعال میں آکر ہم پر حملہ کر دیں کہ ہم اپنے مکان کے اندر چلے گئے اور کواٹر وغیرہ بند کر لیے۔ہم میں سے ایک لڑکا پیسے بچا کہ ہمارے بھائی شیخ کے پاس پہنچا اور انہیں اطلاع دی۔انہوں نے آکرہ ہجوم کو یہ کہ کر تسلی دی کہ آپ لوگ ان کو ماریں نہیں۔یہ سب مسلمان ہو جائیں گے۔اور اس طرح سے ہجوم سے کہہ کہ ہمیں چھڑایا اور ہم اپنے مکان پر آگئے۔مضافات اوکاڑہ کے واقعات | ا حوالدار محمد ابراہیم صاحب کا بیان ہے۔چک نمبر ۳۲ تحصیل اوکاڑہ ضلع مظکمری میں ہم دو عملیوں کے گھر ہیں۔ایک میرا اور ایک میرے خسر چوہدری عدالت خان ولد شیر خان قوم راجپوت کا شورش کے ایام میں ہمیں از حد تنگ کیا گیا حتی کہ تمام دیجہ کے مشتر کہ کنویں پر سے پانی لے کر پینے تک نہیں دیا۔کئی دنوں تک ہم شہر کے کھالے سے پانی لے کر پیستے کہ ہے۔یہ لوگ ملوس اور ہتھہ کی شکل میں ہمارے مکانوں پر آتے۔نہایت گندے نعرے لگاتے۔اینٹ اور پتھر ہم پر برساتے تھے۔ہمیں پنچایت میں بٹھا کر شدید دھمکیوں کے بعد احمدیت سے تائب ہونے پر مجبور کرتے رہے۔لیکن ہمارے انکار پر ہمارا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا۔سرفراز حسین صاحب نائب تحصیلدار اوکاڑہ موقع۔پر تشریف لے گئے تھے۔انہوں نے گاؤں والوں کو سمجھایا۔ان کے سامنے اتنا اقرار کیا کہ ہم ان کو کنویں سے نیچے نالی میں برتن رکھوا کر خود پانی دید یا کریں گے۔یہ لوگ ہمارے کنویں پر نہ چڑ ہیں۔