تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 140 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 140

۱۳۸ احمدی ہو کہ کیا آپ سمجھتے تھے کہ آپ کے گلے میں ہار پہنا ئیں گے کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے گلے میں ہار پڑے تھے " ؟ ۱۳ / مارچ - چنیوٹ میں بعد نماز جمعہ جلوس نکلا میں میں شامل ہونے والوں کی تعداد قریب اس ہزار تھی۔لڑی کے سپاہی اڈے سے گزرے تو ان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔شیخ ظهر حسین صاحب تالمقام امیر جماعت احمدیہ مینوٹ نے سب انسپکڑ صاحب کو جماعت کے خلاف اقتصادی بائیکاٹ کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں مجبور ہوں میری پشت پر کوئی انہیں۔سپاہی جواب دے چکے ہیں فورس طلب کی تھی وہ مل نہیں رہی ایک دوسرے منھا بیدار صاحب نے فرمایا کہ آپ اپنے آدمیوں کو ربوہ کیوں نہیں بھیج دیتے ؟ رز ساڑھے چار بجے شام کی رپورٹ موصول ہوئی کہ غیر احمدی مستورات اپنے تعلق والے گھروں کو از راہ ہمدردی آگاہ کر رہی ہیں کہ آج حملہ ہو گا اور رات کو آگ وغیرہ لگے گی " آج لالیاں میں باہر سے آنے والے ایک مولوی صاحب نے خطبہ جمعہ میں یہ کہکر اشتعال دلایا کہ فلاں جگہ اتنے مسلمان مارے گئے اور فلاں جگہ اتنے۔تم یہاں کیا کر رہے ہو کم از کم مرزائیوں کہ سے بائی کاٹ ہی کر دو پھر لوگوں سے اقرار لیا اور ہاتھ اٹھوائے۔لالیاں کے مقامی خطیب نے کہا کہ لوگ ہاتھ اٹھاتے ہیں عمل نہیں کرتے اس پر ایک مہاجر نے کہا کہ جو عمل نہ کرے اس کو سزا دیجائے یا دور ہے ایک رپورٹ کے مطابق انہی دنوں اہل چنیوٹ نے لالیاں والوں کو مہندی اور چوڑیاں بھیجوائیں۔، پولیس کے بعض سپاہی احمد نگر میں متعین تھے جو فراغت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور رسالے پڑھتے رہتے تھے ان میں سے بعض نے اس روز یہ اظہار کیا کہ ہم پر وفات میچ کا مسئلہ تو بالکل کھل گیا ہے اور حضرت مرزا صاحب کا مبلغ اسلام ہونا بھی ہمیں مسلم ہے مگر مسئلہ نبوت ابھی تک واضح نہیں ہوا۔احمد نگر کے احمدیوں نے ہنگامی حالات کی وجہ سے اس روز جمعہ بھی گھروں میں ہی ادا کیا اور حضرت مصلح موعود کا تازہ خطبہ ربوہ کا خلاصہ احباب تک پہنچا دیا گیا۔