تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 134
کا انتظام بھی کر دیا۔۱۳ اس روز حضور کی خدمت بابرکت میں آپ کی حسب ذیل پہلی رپورٹ موصول ہوئی۔بسم الله الرحمن الرحیم محمد افضل على رسوله الكريم سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی اید یکم الله بنصره السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاته۔احمد نگر میں جماعت کے افراد کو اپنی حفاظت اور مستعدی کے لیے کہا گیا ہے خدام الاحمدیہ کے ماتحت نوجوانوں کی تنظیم کی جا چکی ہے۔بہت سے انصار بھی اس تنظیم سے ملحق ہیں مضبوط آدمی یہاں پر نہ ہیں۔کل تعداد مردوں کی ۱۵۰ کے قریب ہے مقامی غیر احمدی صاحبان کے چار پانچ لیڈر ہیں۔دو یہاں کے پیروں میں سے ہیں۔ایک سر براہ نمبر دار ہیں اور ایک برانچ پوسٹا سٹر ہیں ہے۔وہ مسلم لیگ کے بھی ممبر ہیں۔تین دن قبل ہمارا ایک اجتماع ہوا تھا۔جس میں ان لوگوں نے اقرار کیا تھا کہ ہم ہر حالت میں جماعت احمدیہ کے ساتھ ہیں اور کسی صورت میں فساد میں حصہ نہ لیں گے اور نہ کسی کو حصہ لینے دیں گے۔ہم نے بھی اپنی طرف سے پورے طور پر ان کی حفاظت کا یقین دلایا تھا۔کل صبح ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے بعض لوگ ڈر کی وجہ سے احمد نگر سے باہر حیا رہے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ سب لوگوں کو جمع کریں میں انہیں ہر طرح تسلی دلاتا ہوں۔وہ سب پیر خادم حسین صاحب کے مکان پر جمع ہوئے۔جماعت کی طرف سے چھ سات آدمی ہم وہاں گئے اور باہمی سمجھوتہ ہوا کہ احمد نگر میں ہم سب مل کر ہر قیمت پر امن قائم رکھیں گے۔اس سے انہیں بھی اطمینان ہو گیا۔انہوں نے چار ممبر اپنی طرف سے مقرر کیے۔اور چار ہمارے ه علیسی صاحب نے رحمت علی صاحب