تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 132
۱۳۰ کار مارچ۔ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر ابو بشیر احمد صاحب سے صبح کو بذریعہ تار کسی نے پوچھا کہ مشتا ہے مرزا بشیر الدین کو لاہورمیں گولی مار دی گئی ہے۔اسٹیشن ماسٹر صاحب نے تردید کی تو پھر اس نے کسی اور اسٹیشن سے رابطہ قائم کیا اُسے جواب ملا کہ بات درست ہے مگر بشیر احمد جھوٹ بولتا ہے بابو صاحب نے یہ بات بھی سنی۔پولیس افسر صاحب چنیوٹ نے بعض احمدیوں سے کہا کہ اب ہمیں بہت خطرہ ہو گیا ہے اس لیے آپ اپنی حفاظت نخود کریں " چنیوٹ کے ایک احمدی عطاء اللہ خاں صاحب نے اطلاع دی کہ انچارج متھانہ اے ڈی ایم وغیرہ وغیرہ عاجز آچکے ہیں تمام احمدیوں کے گھر خدا کے بھروسہ پر ہیں یا قبل ازیں لالیاں کے حالات کنٹرول میں تھے مگر چنیوٹ کے ۱۵ ۱۶٫ افراد نے لالیاں میں بھی سیکا یک اشتعال کی فضا پیدا کر دی۔چنانچہ ، مارچ کی صبح یہاں ۲ ہزار کے ایک ہجوم نے چناب ایکسپریس کو روک لیا اور انجن پر چڑھ کر مختلف قسم کے نعرے لگائے گئے۔مولوی عبدالحق صاحب بدوملہی کے بیان کے مطابق یہ نعرے تھے :۔ہندوستان زندہ باد - پاکستان مرده یا د پولیس سب کچھ دیکھنے کے باوجود بے بس ہو کر کھڑی رہی۔تاریخ - ربوہ کے جنوب مشرقی جانب ایک گاؤں چھنیاں ہے جس کے معزنہ غیر احمدیوں نے ان ایام میں بہت اچھا نمونہ دکھایا۔اور نہ صرف اہل ربوہ کو اس گاؤں سے باقاعدگی کے ساتھ دودھ پہنچتا رہا بلکہ ربوہ کے بعض احمدی دوکاندار وہاں روزانہ جاتے اور دودھ لاتے رہے۔۸ مارچ کو ایک سیاہی نے انہیں یہ کہکہ بائیکاٹ پر اکسانا چاہا کہ یہ بوہ میں خطرہ ہے۔دودھ وغیرہ کوئی چیز وہاں لے کر نہ جاؤ لیکن چھپنی کے شرفاء قطعاً بائیکاٹ پر آمادہ نہ ہوئے۔محلہ دارالیمن ربوہ کے بعض احمدی احباب اپنی مستورات اندرون شہر چھوڑ گئے تھے۔۸ مارچ کو یہ دوست اپنی خواتین بحفاظت واپس اپنے محلہ میں لے آئے۔سوائے ایک کے جن کی نسبت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ( جنرل پریذیڈنٹ) نے حضور کی خدمت میں اگلے دن اطلاع دی کہ آج انہوں نے تحریر لکھ دی ہے کہ وہ آج مستورات کو واپس لے جائیں گے۔پریذیڈنٹ محلہ کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ ان کی واپسی پر رپورٹ کریں یا