تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 131
۱۲۹ ہیں اور دہشت بھی پیدا کر تی ہیں کہ ہم مرزائیوں کو مار ڈالیں گے یہ کریں گے وہ کریں گئے۔لہذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ فوری طور پر مہاری بچیوں کی حفاظت کا انتظام فرمایا جائے اور دوسری لڑکیوں کو ایسی شیع حرکات کرنے سے روکنے کا انتظام فرمایا جائے مگر اس درخواست پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔اسی روز جماعت احمدیہ چنیوٹ کے ایک وفد نے انچارج صاحب تھا نہ چنیوٹ کو یہ عرض داشت بھی پیش کی کہ آج جمعہ کی نماز سب احمدی اپنی بیت الذکر میں ادا کریں گے۔خبریں آرہی ہیں کہ مشتعل نوجوانوں کو شرارت کے لیے اکسانے کے علاوہ چاقو ، چھڑے وغیرہ سے مسلح کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اس لیے احمدی حلقوں اور احمدیہ بیت الذکر کی حفاظت کا بندوبست کر کے ممنون فرمائیں۔انچارچ صاحب نے احمدی وفد سے وعدہ کیا کہ میں ابھی دو تین سپاہی احمد یہ بیت الذکر کے لیے بھیجتا ہوں مگر موقعہ پر نہ صرف ایک سپاہی بھی نہیں بھیجا گیا بلکہ پولیس نے احمدی حلقوں کا گشت کرنا بند کر دیا۔نماز جمعہ کے بعد شیخ محمد حسین صاحب اور چو ہدری جمال الدین صاحب۔AD۔M سے ملے انہوں نے دوران گفتگو کہا ” آپ اطمینان سے اپنے گھروں کو بند کر کے بیٹھے رہیں اگر میں نے پولیس کو لگایا تو اشتعال زیادہ ہوگا میں نے شہر کے بڑے بڑے لوگوں کو تنبیہ کہ دی ہے کہ احمدیوں کو کچھ نہ کہا جائے اور نہ نقصان کیا جائے اگر کسی احمدی کا نقصان ہوا تو ایک نہیں ہزار گولی چلاؤں گا۔آپ گھروں میں بیٹھیں جلوس اور بازار میں نہ جائیں یا اس ملاقات کے چند منٹ بعد دس پندرہ ہزار کا ایک جلوس۔A۔D۔M کے پاس پہنچا جس میں احمدیوں کو شدید گالیاں دی جارہی تھیں اور اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے۔کا نڈیوال میں صرف ایک گھر احمدی کا تھا جسے لوٹنے کی کوشش کی گئی۔اس روز قریبا بجے رو پر کیپٹی چوہدری ظهور سین صاحب میر تقیم واد النصر بود، چنیوٹ سے محمد بذریعہ لاری ربوہ آرہے تھے کہ ایک شخص نے جو لاری میں بیٹھا ہوا تھا دریا عبور کرتے ہی کہا کہ در تاریخ ہی کہا کو بربوہ پر حملہ ہو گا اس حملہ میں فرنیٹر کے پٹھان بھی شامل ہوں گے کیا سه وفات ۱۸ رمئی ۱۹۸۷ء کے حال لندن