تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 130 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 130

گیا۔رات کو لڑکوں کا جلوس شہر میں گشت کرتا اور مہند دوستان زندہ باد در پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔۱۵ مارچ۔صبح کو لائلپور جانے والی چناب ایکسپرلیں جب ربوہ ٹھہری تو انجن پھولوں سے سجا ہوا تھا اور سواریوں کے ہاتھ میں مطبوعہ اور دستی اشتہارات تھے جن پر بناوٹی نبی مردہ باد مرزائیوں کو اقلیت قرار دو ، ظفر اللہ کو اتار دو مجاہد بنو “ کے الفاظ درج تھے گاڑی میں نعرے بھی لگائے گئے۔جن سے ملک میں ابھرنے والے فتنہ کے نئے رجحانات کی نشان ہیں ہوتی تھی۔مرکز میں لاہور اور سیالکوٹ سے بعضی احمدیوں کی شہادت کی اطلاعیں پہنچیں جس پر شام کو وزیر اعظم پاکستان پنجاب کے چیف سیکر ٹی ، ہوم سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو تار دیئے گئے جن میں لاہور اور سیالکوٹ کے احمدیوں کی تشویشناک صورت حال سے مطلع کیا گیا تھا۔ایک تار حفاظت ربوہ کے انتظامات کے لیے ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ کو بھی دیا گیا۔انسپکڑ صاحب پولیس اور ایس۔ڈی۔ایم صاحب چنیوٹ نے بعض احمدیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بچوں کا سر دست ہنگامی حالات میں ربوہ کے سکول میں آنا اور جانا بند کر دیں۔خطرہ ہے کہ کوئی نقصان نہ ہو جائے۔آج بھی چنیوٹ میں جلوس نکلا خیس میں دو تین ہزار مرد اور سو کے قریب عورتیں بھی شامل تھیں چنیوٹ گرلز سکول کی احمدی بچیوں کی فہرست بنائی گئی اور استانیوں نے مشورہ کیا کہ ان کو غنڈوں کے حوالہ کیا جائے گا۔۲ مارچ - بجناب شیخ محمد حسین صاحب پنشنر سیکرٹری مال و قائم مقام امیر جماعت احمدیہ چنیوٹ نے سب انسپکٹر صاحب پولیس تھانہ صدر چنیوٹ اور پریذیڈنٹ صاحب میونسپل کمیٹی چنیوٹ کو تحریری درخواست دی که - جماعت احمدیہ کی ہیں بیچیں لڑکیاں ایم بی گرلز مڈل سکول محلہ گڑھا میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اب امتحان سالانہ قریب آگیا ہے گرلز سکول میں استانیوں کی موجودگی میں حنفی مسلمان لڑکیاں احمدی۔۔۔لڑکیوں کو ہر قسم کی طعن تشنیع اور گالی گلوچ کا مظاہرہ کر کے سخت تنگ کرتی نام وفات ، رجعون ۱۹۷۶ء