تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 126
اس طرح ان دنوں ہم اُن کے خطرناک ارادوں سے محفوظ رہے۔مورخہ ۲۸ مارچ کو ر بار شدہ مولویوں نے پر وگرام کے مطابق ہمارے آدمیوں پر حملہ کیا۔جبکہ وہ خراس پر آٹا پیسنے گئے اور اس طرح 14 آدمیوں کو پر چھوں ، کلہاڑیوں اور ڈانگوں سے زخمی کیا۔پولیس موقع پر پہنچ گئی اور (اُن کے ۳۵ آدمیوں کا چالان کیا۔دو تین یوم بعد ہمارے خلاف بھی لڑائی کا جعلی پرچہ کرا دیا گیا۔اور ہمارے آدمیوں کا چالان کر دیا۔تین ماہ تک ہماری ضمانتیں نہ ہوئیں اور گھر پر کوئی کام کرنے والا نہ رہا۔وقوعہ کے ڈھائی ماہ بعد ہمارے ایک احمدی محمد یعقوب کے گھر گاؤں والوں نے نقب زنی کی واردات کرادی۔الخ محمد شفیع صاحب اسلم نے جلیانوالہ متصل گوجرہ کا مندرجہ ذیل واقعہ جلیانوالہ متصل گوهره انہی دنوں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں لکھا کہ :- ] ہمارے گاؤں جلیانوالہ میں گواندر ہی اندر کھچڑی پک رہی تھی مگر بظاہر امن تھاکر، رما ده رچ کو گو تیرے میں حالات زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے دس بارہ مستورات ہمارہ سے ہاں چلی آئیں تاکہ غنڈہ عناصر سے محفوظ رہ سکیں اس پر ہمارے گاؤں میں ایک آگ لگ گئی اور سرکردہ لوگ نہیں کہنے لگے کہ تم نے ان عورتوں کو پناہ کیوں دی ہے چنانچہ سارے گاؤں میں مخالفت بھڑک اٹھی۔مستورات کے یہاں آنے میں ایک لطیفہ یہ ہوا کہ ایک عورت اپنا ایک ٹرنک ساتھ لے آئی جو کسی قدر لمبا تھا اور قدرے وزنی بھی۔گاؤں کے لوگوں نے سمجھا کہ اس میں اسلحہ ہے اور یہ مرزائیوں نے ہمارے لیے شہر سے مستورات کے بہانے منگوایا ہے اس وہم سے وہ لوگ اپنے مزموم ارادوں سے بانہ رہے گا جناب ملک فضل حسین صاحب کی تحقیق کے مطابق ضلع لائلپور میں اس قسم کی مار وہاٹہ اور جبر و تشدد وہیں ہوا جہاں کہ احمدی اقلیت میں تھے۔کمزور و لاچار تھے۔برعکس اس کے جس جگہ بھی احمد ی اکثریت میں تھے۔یا ان کی اچھی خاصی آبادی تھی یا جہاں تھوڑے ہوتے ہوئے بھی اُن کے دلوں میں جرات و مردانگی کا مادہ کافی موجود تھا۔وہاں کسی قسم کا فتنہ وفساد اور مہنگامہ آرائی نہ ہو سکی۔بطور مثال سمندری سے تین میل دور چک نمبر ۴۶۹ کا ذکر کافی ہو گا۔اس گاؤں میں احمد می بمشکل دس پندرہ ہوں گے۔جب احرار نے ان کو جلوس کے ه وقات