تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 122 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 122

玩 انہوں نے کہا کہ آپ کی یہاں خیر نہیں۔پبلک کے تمہارے متعلق بہت بڑے ارادے ہیں۔میں نے کہا میں نہ مکان چھوڑ کر جا سکتی ہوں اور نہ احمدیت سے انکار کر سکتی ہوں لیکن میردل میں خوف ضرور تھا کہ کہیں ان لوگوں کو میرے جواب سے طیش نہ آجائے۔یہ میں مشکلات جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک لمبا عر تک میں اور خوف وہراس کی حالت میں رہے یا - بجناب محمد حسین صاحب سیکرٹری امور عامہ جڑانوالہ اپنے ایک بیان میں لکھتے ہیں کہ۔ان دنوں عبد الرشید ولد عبد الرحمن مہاجہ طالب علم کو دو دفعہ پیٹا گیا۔ایک دفعہ بازار میں بعض دکانداروں نے پیٹا۔جب وہ اپنے کام سے وہاں سے گزر رہا تھا اور دوسری دفعہ جب وہ سکول میں تعلیم کے لیے گیا اس کا سر پھوٹ گیا۔افتخار احمد طالب علم کو جس کی عمر قریباً آٹھ سال ہے سکول میں لڑکوں نے مار مار کر مجبور کیا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو گالیاں دو اور چوہدری ظفر اللہ خاں کو غدار کہو۔اُسے اس وقت تک پیٹتے رہے جب تک اُس نے مجبور ہو کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو غدار نہ کہا۔نہ ماسٹر نے شکایت شنی اور نہ کسی لڑکے نے اُسے سہچایا۔بچہ کئی دن تک سکول نہ گیا۔گرل سکول میں احمد می لڑکیوں کو روزانہ گالیاں دی جاتی رہیں یہاں تک کہ سید عنائت علی شاہ زیروی کی لڑکی امتحان میں سے اُٹھ کر گھر کو چلے آنے پر مجبور ہو گئی۔اور آئندہ تعلیم سے محروم ہو گئی۔میاں محمد شریف صاحب اور چوہدری سردار احمد صاحب کی لڑکیوں کو بھی سکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔انسانی کو جب شکایت کی گئی تو اس نے (اللہ) ہماری لڑکیوں کو ڈانٹا اور کہا تم کو جنتنا پیٹا جائے پھوڑا ہے۔تم نے ہزاروں مسلمانوں کو گولیوں سے مرد ایا ہے۔ڈاکٹر محمد انور صاحب مروایا امیر جماعت احمدیہ جڑانوالہ کی چھوٹی بچی جو بازار سے کچھ سودا لانے کے لیے جارہی تھی کسی نے اُسے دھکا دیا اور پانچ روپیہ کا نوٹ اس سے چھین لیا کا ہے۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے محترم ملک فضل حسین صاحب کو بتایا کہ کسی شخص نے میری بچی کو دھکا دیا اور پانچ روپے کا نوٹ چھین کر کہنے لگا کہ مرزائیوں کا سب کچھ چھین لینا جائز ہے اور اپنی راہ چلتا بنا۔کسی نے اُسے نہ ٹو کا۔وہ بچی روتی ہوئی گھر آئی اور یہ واقعہ سنایا۔