تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 119
114 شیخ عبد الرحیم صاحب صرات جڑانوالہ نے بیان دیا کہ " مجھے جو فسادات گزشتہ میں تکالیف پہنچیں ، بعض یہ ہیں : - سب سے پہلے میرا بائیکاٹ کر دیا گیا جواب تک جاری ہے۔ایک شخص۔۔۔۔۔جس کی دکان بزازی ریل بازار میں ہے اس نے میرے۔/ ۸۸ روپے دینے تھے۔اس کی طرف ہیں نے اپنے بھائی کو قرمن وصول کرنے کے لیے بھیجا مگر اس نے کہا اگر مجھ سے روپے مانگے تو میں آپ کا پیٹ پھاڑ دوں گا۔اس طرح میرا پانچ سو روپیہ مختلف اشخاص نے نہیں دیا۔ایک دفعہ میں نے ٹال سے ایندھن منگوایا اور ایندھن گھر میں رکھوا لیا۔ٹال والا زیرہ دستی ۱۵ر افراد کیا تھے آکر گھر سے ایندھن اٹھوا کر لے گیا۔اس طرح میں ایک دفعہ گوشت لینے کے لیے گیا تو انہوں نے گوشت دینے سے انکار کر دیا اور ایک شخص احراری دوکان پر بیٹھا بتاتا تھا کہ یہ شخص مرزائی ہے اس کو گوشت نہ دو۔اگر دیا تو جوتوں سے مرقت ہوگی۔اسی طرح ایک دن سبزی لینے گیا تو سبزی والے نے انکار کر دیا۔کچہری بازار میں میری دکان ہے اور یہاں پر اکثر مرانوں کی دکانیں ہیں۔اس لیے برادری کی طرف سے میرا ابھی تک مکمل بائیکاٹ ہے اگر کوئی باہر سے گاہک دکان پہ آجائے تو اس کو یہ کہ کر دکان سے لے جاتے ہیں کہ آپ کو شرم نہیں آتی کہ مسلمان ہو کہ مرزائی کی دکان پر جاتے ہیں۔اسی طرح ایک بیو پاری جس کا نام عبد المجید زرگر گجرانوالہ کا ہے وہ تمام ھرانوں کی دکانوں کو چاندی کا مال تیار کر کے سپلائی کرتا ہے۔میری برادری نے اُس کو آرڈر دیا ہے کہ تم نے عبد الرحیم کو مال دیا تو ہم آپ سے قطع تعلق ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔اس وقت میری دکان کی حالت یہ ہے اور کاروبار پہ اتنا اثر پڑا ہے کہ کوئی ڈرتا دکان پر قدم نہیں رکھتا۔میرے پاس جو کچھ نقدی وغیرہ تھی اسی کو کھا رہا ہوں۔گڑ بڑ کے دوران میں میر گھر کے سامنے سے جلوس گزرتے رہے اور گھر کے سامنے ٹھہر کر بہت گالیاں دیتے۔گڑ بڑ کے بعد میرے گھر کی تلاشی لی گئی مگر کوئی چیز قابل اعتراض بر آمد نہ ہوئی ہے ۱۰- ایک بیوہ احمدی خاتون محترمہ سردار بیگم صاحبہ نے اپنی درد تاک آپ بیتی مندرجہ ذیل الفاظ میں لکھوائی۔میرے خاوند چوہدری دوست محمد خان صاحب ایم۔اے (علی گڑھ) بیٹی گولڈ میڈلسٹ