تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 113
بہت گندے اور امن شکن ہیں اس لیے احمدی احباب اپنے اپنے گھروں کی حفاظت کریں۔اور نماز جمعہ بھی گھر پر ہی ادا کریں۔بیت الذکر میں صرف چند آدمی جمعہ کے لیے آئے۔باقی اپنے گھروں کی حفاظت کرتے رہے۔عصر کی نماز کے بعد قریبا چار ہزار آدمیوں کا ہجوم ہماری بیت الذکر پر حملہ اور ہوا۔۲۵ منٹ تک انہوں نے ہماری بیت الذکر کو گھیرے رکھا۔خشت باری کی۔آگ لگانے کے مشورے کیے۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ناکام رہے۔حملہ کے وقت خاکسار کے ہمراہ علی حمد خادم بیت الذکر ، بھائی غلام محمد جلد ساز - مستری محمد صدیق اور شیخ عبد المجيد بيت الذكر میں تھے۔۷ مارچ ۶۱۹۵۳ آج ربوہ کی طرف سے آنے والی چناب ایکپریس کو فسادیوں کے ہجوم نے طارق آباد کے قریب روک لیا۔شور کوٹ کی طرف سے آنے والی گاڑی کو بھی سگنل سے باہر روک لیا گیا۔جب ہجوم لوٹ مار، ریل کی پٹریوں کو جلانے اور اکھاڑنے میں مصروف ہو گیا تو پولیس کو مجبور ہو کر گولی چلانا پڑی جس کے بعد شہر کی حالت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔اور خطرہ بڑھ گیا۔چھ بجے شام سے کرفیو لگا دیا گیا لیکن لوگوں نے کرفیو کا مذاق اُڑایا۔ه ر مارچ ۶۱۹۵۳ کل فسادیوں اور لوٹ مار کرنے والوں پر جو گولی پولیس کو تنگ اکر چلانی پڑی اور اس میں جو نین آدمی ہلاک ہوئے وہ چونکہ احراریوں کے عظیم الشان شہداء تھے اس لیے بہت بڑے جلوس کے ہمراہ ان کا جنازہ اٹھایا گیا اور خوب مظاہرہ کیا گیا تا کہ فضا نہ بادہ سے زیادہ خراب ہوا اور ملک کا امن بالکل سیر با در ہو جائے۔آج شام جب کرفیو لگایا تو ساتھ اعلان کر دیا گیا کہ اگر کسی نے قانون کی بہتک کی تو اُسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔فسادیوں کے ایک ہوم نے کرفیو توڑا میں پر مڑی کو گولی چلانا پڑی۔۹ مارچ ۶۱۹۵۳ کر نیو آر ڈر۳ بجے بعد دوپہر تک لگایا گیا تھا لیکن سمندری روڈ پر فسادیوں کے اجتماع اور ملڑی فائرنگ کی وجہ سے کرفیو کل صبح پانچ بجے تک بڑھا دیا گیا۔ے اصل ڈائری میں جو شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے، بیت الذکر کی بجائے مسجد کا لفظ ہے (ناقل)