تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 109
1:9 نعمت خان نے میری مدد کے لیے مجھے ایک کمرہ میں بند کر کے اُسے تالا لگا دیا۔مجھے ڈپو میں میری تلاش میں پہنچا تو اس کو کسی نے بتا دیا کہ میں کمرہ میں بند ہوں۔بلوائیوں نے تالاکو توڑ دیا اور مجھے گھسیٹ کر باہر نکالا اور زرد و کوب کرنا شروع کر دیا۔مگر مین اس وقت ملڑی کا ٹرک اس طرف آگیا جس کو دیکھ کہ وہ بھاگ گئے یا - مولوی فضل الدین صاحب بنگوری دوکاندار کارخانہ بازار شہری الپور ایک حلفیہ بیان میں لکھتے ہیں۔ر مارچ ۱۹۵۳ء کو مخالفین احمدیت احرار وغیرہ نے جلوس نکالا جس میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خلاف نہایت ہی فحش گالیاں اور نعرے لگا رہے تھے اور شہر لائل پور میں ہڑتال کر دادی گئی تھی۔اس جلوس نے کارخانہ بانہالہ میں احقر فضل الدین بنگوی نمک فروش کی دکان کو فحش نعرے لگاتے ہوئے دن دہاڑے لوٹ لیا۔اور شہداء کی طرح نمک کا ڈھیر جو کہ سر بہ من کے قریب تھا اور دکان کا سب سلمان ترازو اور بیٹے اور بوریاں اور ٹاٹ سب اٹھا کر لے گئے اور بوجہ ہڑتال کے میں دکان پر نہیں آیا۔بلکہ اپنے گھر پر ہی رہا تھا تا کہ جلوس والوں کو فتنہ فساد کا موقعہ نہ ملے نگہ باوجود اس کے پھر بھی مشتر پسند دکان سے سب مال اور سامان وغیرہ کو لوٹ کر لے گئے۔پھر اس کارخانہ بازار سے گزر کر جلوس ریلوے اسٹیشن لالمپور کی طرف روانہ ہوا اور ان کے راستہ میں احقر کا مکان تھا میں یہ انہوں نے خشت باری کی۔اس دوران میں ہمارے ہمسایہ مکرمی محمد الدین صاحب بٹ نے بندہ کو اور میرے بال بچوں کو اپنے گھر میں پناہ دے کہ ہماری پوری پوری حقیقت کی اور جلوس میں اپنے واقف کاروں کو جو شامل تھے لعنت ملامت کر کے پیچھے ہٹا دیا۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء في الدنيا والآخرة - پھر یہ جلوس آگے ریلوے لائن پر جا کہ اسٹیشن کے قریب نہایت ہی اشتعال انگیز نعرے لگانے لگا جس پر پولیس نے ان کو منتشر ہونے کو کہا مگر جلوس منتشر نہ ہوا۔جس پر پولیس نے لا مٹی ه ولادت ۲۰ ر تجون ۶۱۹۰۰ وفات ۸ راگست ۱۹۸۹ ۶