تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 110 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 110

11۔چارج کی۔پھر بھی جلوس منتشر نہ ہوا۔آخر شام چار بجے کے قریب پولیس نے گولی چلائی۔رمانه چ ۱۹۵۳ء کو باوجود کرفیو کے شرپسندوں نے شام کو جلوس نکالا۔افسران نے اُن کو رد کا گروہ باز نہ آئے جس پر چنیوٹ بازار میں گولی چلا کر ان کو منتشر کیا گیا یا شے مولانا محمد اسماعیل صاحب و با گری تھی مری ضلع رامپور کی ذاتی ڈائری میں لکھا ہے :- ۴ مارچ ۶۱۹۵۳ درس دیا۔آج دن بھر ہڑتال رہی جس کے متعلق رات مضدین نے اعلان کہ ایا دن بھر غنڈوں اور ہلڑ بازوں کے ہجوم گندے اور مشتعل نعرے لگاتے ہوئے گھومتے رہے۔۵ر مارچ ۶۱۹۵۳ درس دیا۔شہر کی حالت آج بھی خراب رہی۔گو ہڑتال نہیں تھی لیکن لوگوں میں اشتعال شدید پایا جاتا تھا۔جگہ جگہ لوگوں کی ٹولیاں فسادات کے متعلق باتیں کرتی پائی گئیں کہ احمدیوں کو لوٹ لینا مار دینا بالکل جاڑا ہے ۶ مارچ ۶۱۹۵۳ - آج احمدی احباب کو مشورہ دیا گیا کہ چونکہ فسادیوں کے ارادے سے اخبار" اعلان دلائلپور موتر خه ۲۲ را پریل شد نے ص ۲۶ پر لکھا کہ کارخانہ بازار میں جو فضل الدین مرزائی نمک فروش کا اڈہ ہے ہم اس کی تبلیغ برداشت نہیں کہ سکتے۔لہذا ہم پولیس کو مطلع کرتے ہیں کہ وہ کل صبح نو بجے سے پہلے پہلے کارخانہ بازار سے مرزائیت کے نمک فروشی کے اڈے کو اٹھا دیں ورنہ ہم خود انتظام کریں گے کیا یہ انتظام کس طرح کیا گیا ہےاس کا ذکر تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججوں نے بایں الفاظ کیا : - سال انپور میں یوم تشکر ۲۰ اپریل ۱۹۵۱ء کومنایا گیا جہاں ایک بہت بڑے جلسے میں غلام نبی با نماز نے ایک احمدی دکاندار فضل دین کو دھمکی دی کہ تمہارا حشر برا ہو گا۔چنانچہ مر مٹی کو دن دہاڑے اس کا تدار پر اس کی دکان کے اندر ہی حملہ کیا گیا “ (رپورٹ ۲۹) سه دفات ۱۴ر اگست ۱۹۸۳ ۶