تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 106 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 106

صاحب اس کے ساتھ جانے پر مجبور ہو گئے۔پولیس کہیں دکھائی نہ دیتی تھی اور اگر احمدی اس کے پاس پہنچ بھی جاتے تھے تو وہ احمدیوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیتی تھی۔کرفیو کے اوقات کے دوران میں غلام محمد احمدی کا مکان لوٹا گیا اور اسے زبر دستی مسجد میں لے جایا گیا جہاں اُسے مجبور کیا گیا کہ وہ احمدیت سے ارتداد اختیار کرے لائلپور رفصیل آباد شہر کے واقعات - میاں فضل دین صاحب دوکاندار گلی است کارخانہ بازار) کا بیان ہے۔: ور ہم ر ما سرچ کو قریباً ۳٫۲ صد کا جتھہ میرے مکان پر حملہ کے لیے پہنچا۔ڈیوڑھی کا دروازہ بلوائیوں نے توڑ دیا اور مکان کے اندر گھس گئے اور جو کچھ گھر میں متھا لوٹ کر لے گئے۔ہیں مع مستورات چھت پر چلا گیا اور سیڑھیوں کا دروازہ بند کر لیا۔تقریباً نصف گھنٹے کی لوٹ کے بعد تجمتہ واپس چلا گیا۔پولیس میں رپورٹ کی گئی مگر کوئی آدمی پولیس کی طرف سے موقعہ دیکھنے کے لیے بھی نہ پہنچا مزید فرماتے ہیں : در موجودہ فسادات کے دنوں میں ، مارچ کو میں باہر گیا ہوا تھا چار بجے شام جلوس ہمارے مکان پر آیا۔چند افراد نے دروازہ کھٹکھٹایا۔میری والدہ گھر تھیں۔انہوں نے دروازہ کھولا۔چار پانچ افراد مکان کے اندر داخل ہو گئے اور میری بندوق کیمرہ ، ٹارچ کپڑے وغیرہ اٹھا کیئے گئے پولیس میں رپورٹ کی گئی۔پولیس نے تفتیش کی تو بندوق ایک شخص محبوب نامی برا در ملک چیف گلاس ہاؤس کے پاس سے نکلی۔بندوق ابھی تک پولیس کے قبضہ میں ہے۔محبوب مذکور جماعت اسلامی کا ممبر ہے یا ۲ - والدہ صاحبہ ٹھیکیدار فتح دین صاحب نے بیان دیا کہ سب مورخہ، رمارچ کو میں اور میرا لڑکا جس کی عمر ۲۷ سال کی تھی گھر میں تھے حملہ آوروں نے دجن راہ ان دنوں آپ گل نیرم بازار منگری لائل پور میں رہتے تھے