تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 102 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 102

پھر جلوس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ چھوڑ دیا یہ تومیرا اچھا ہے ، مرزائی نہیں۔اس طرح جلوس کو لے گیا۔اور جلوس کو دوسرے بازار روانہ کر کے والد صاحب کو ساتھ لیا اور ریلوے کی پل سے گزار کہ پیدل راستے سے سید والہ کی سڑک پر روانہ کیا اور اس طرح خدا تعالے نے والد صاحب کو اس کے ذریعہ بال بال بچا لیا۔جو لوگ زیور لینے کے لیے خود ہمارے گھر آئے تھے ہم نے اُن کا مال واپس دینا شروع کر دیا۔بازار بند ہوتا تھا اور شہر میں کرفیو لگا ہوا تھا۔بائیکاٹ مکمل تھا اور باہر سے جو لوگ ہمیں لوٹنے کے لیے جتھوں کی صورت میں آتے۔وہ باہر سے ہی لوٹ جاتے ہم لوگ تو کرفیو کی وجہ اور سخت مخالفت کی وجہ سے گھر میں رہتے تھے مگر مخالفوں نے خود ہی یہ افواہ پھیلا دی کہ عبد السلام محاذ کشمیر میں فوجی ٹریننگ لے کر آیا ہے اور قادیان میں بھی وہ تین ماہ ٹریننگ لے کر آیا تھا۔اس لیے نہ سمجھو کہ یہ اندر ڈر کے مارے خاموش بیٹھے ہیں۔وہ تو اندریم بنا رہے ہیں۔تم ان کے گھر حملہ کرنے یا لوٹنے کی کوشش نہ کرنا۔ورنہ وہ تمہارے سارے جتھہ کو تباہ کر دے گا۔اس طرح دشمن ہمیں خوف وہراس پھیل گیا۔اور خدا تعالیٰ نے اُن کے حملوں سے ہمیں محفوظ رکھا۔فالحمد للہ۔پھر خدا تعالیٰ کا فضل یہ بھی ہوا کہ ہمارے خدام اور انصار بہت ہی مستعد ہو گئے۔اور جو کہنے اور سمجھانے پر بھی بہت الذکر میں نہ جاتے تھے وہ اتنے مستعد ہوئے کہ جب حضور کی طرف سے سرکل چٹھیاں آئیں تو اشارہ کرتے ہی سب افراد جماعت منٹوں میں بیت الفکر میں نماز کے وقت آجاتے۔اور بہت گریہ وزاری سے دعائیں کرتے۔بائیکاٹ اور نعرے بازی اور کرفیو بدستور تھا۔کہ اچانک خبر سنی کہ مارشل لاء ملک میں لگ گیا ہے۔حالات پر سکون ہوئے تو جو لوگ ہمارے مارنے اور لوٹنے کے درپے تھے وہ پہلے تو کچھ دنوں تک ہمارے ساتھ ندامت کے مارے منہ نیچے کر کے ہماری دکانوں سے گزر جاتے مگر پھر آہستہ آہستہ بولنا اور سلام دعا شروع کر دی۔خدا کی شان ! ! خلیل احمد صاحب بی اے۔بھائی گریجوایٹ جولوگوں کو بھڑکاتے تھے قیام امن کے بعد ربوہ پہنچے اور ربوہ میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے چوتھی صف میں بیٹھے تھے کہ اچانک اُن پر میری نظر پڑ گئی۔یہیں ان کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتا رہا۔نماز جمعہ کے بعد میں ان کے پاس گیا اور وہ میرے گلے لگ گئے اور معانقہ کیا۔میں نے کہا کہ آپ کدھر ! ! کہنے لگے کہ میں نے حق پا لیا ہے۔احمدیت سچی ہے۔میں نے اپنے دل سے عہد کیا تھا کہ اگر احمدی