تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 98 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 98

۹۸ نہ صرف اپنے مکان میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا گیا بلکہ ایک رات اپنے ایک نمائندے کے ذریعے انہیں پیغام بھیجا گیا کہ لوگ آگ لگانا چاہتے ہیں، وہ احمدیت سے علیحدگی اختیا ر کر کے مسلمان ہو جائیں۔شیخ صاحب نے کہا کہ حملہ ہونے کی صورت میں ہم لڑتے ہوئے مارے جائیں گے یہ موقعہ خدا کبھی کبھی دیتا ہے۔ہمیں تو صرف مجھو کا پیاسا رکھا جارہا ہے۔قرون اولیٰ میں مسلمانوں کو ایسی ایسی روح فرسا تکالیف دی گئیں کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے۔پھر کیا دوبارہ ایمان لانے تک کی زندگی کا کچھ پتہ ہے ؟۔مرنا تو ایک دن ہے لہذا بجائے بے ایمان ہو کر مرنے کے ، ایمان داری سے کیوں نہ مرا جائے ؟ شیخ صاحب اور ان کے اہل خانہ کی یہ رات خاص طور پر دعائیں کرتے اور شہادت کے لیے تیاری میں گزری۔احمدیوں کا یہ بائیکاٹ مسلسل کئی دن تک جاری رہا۔بالآخر معززین منڈی نے فیصلہ کیا کہ احمدیوں کو سودا کھانے پینے کا دے دیا جائے دور نہ ہم یہ ید ثابت ہوں گے۔گوجر ڈاکخانہ چوہڑ کا نہ کے احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔گھروں پر سنگیاری کی گئی اور احمدیوں سے بات کرنے والے کے لیے پچاس روپے جرمانہ مقرر کر دیا گیا۔ستید والا میں بھی احمدیوں کا سخت بائیکاٹ ہوا۔جو لوگ احمدیوں کی دکانوں سے سودا لیتے ان کا منہ کالا کر دیتے۔احمدیوں کو ختم کرنے کے برملا نعرے لگائے گئے۔سب احمد یا اپنے اپنے گھروں کے کواڑ بند کر کے بیٹھے رہے۔گر مولا ننہ و ڈھایاں میں تین چار احمد میں رہتے تھے جن میں سے ایک احمدی کو دھمکی دی گئی کہ بیعت چھوڑ دو ورنہ قتل کر دیں گے اور لوٹ لیں گے مگر اُس احمدی نے جواب دیا کہ مجھے بیشک قتل کردو میں بیعت نہیں چھوڑ سکتا - بہوڑو چک ۱۸ میں سٹھیالی کے احمدیوں کو گالیاں دی گئیں۔ننکانہ صاحب - جلسوں جلوسوں میں انتہائی بد نہ بانی کا مظاہرہ کیا گیا احمدیوں کو تنگ کرنے کے لیے نئی سے نئی راہیں اختیار کی گئیں ایک دن یہ منادی کرائی گئی کہ مرزائی استانی نے ہماری لڑکی کو مار مار کہ اس کی ہڈیاں توڑ دی ہیں حالانکہ اس میں ذرہ برابر بھی صداقت نہیں تھی لیکن اس کی آڑ میں ایک احمدی استانی کو معطل کر دیا گیا اور دوسر می احمدی استانیاں گھروں میں محبوس ہو کر رہ