تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 97 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 97

بھیج دیا اور پھر مکان کو تالا لگا کر خود بھی حکیم صاحب کے گھر یہ کہتے ہوئے چلادیئے کہ دو اگر میرا گھر سیح موعود کو سچا ماننے کی خاطر جلایا جا رہا ہے تو بے شک خوشی سے جلاؤ اور اگر ایک احمدی کی حیثیت سے مجھے یہ دکھ دے رہے ہو تو مجھے یہ دُکھ اور تکلیف بادشاہی سے افضل ہیں یا خدا تعالیٰ نے ان الفاظ سے مخالفین پر ایک رُعب اور مہدت طاری کر دی اور وہ کوئی نقصان نہ کر سکے۔شاہ کوٹ :۔یہاں ایک احمد ہی دوست کا مکان لوٹا گیا۔سٹھیالی : - چک نمبر ۱۶۹ اگر مولا اور جید چک میں بعض احمدیوں کی فصلیں تباہ کر دی گئیں۔میں ہر روز جلوس نکلتے اور مظاہرے ہوتے تھے اور احمدیوں کی دکانوں پکٹنگ لگائی گئی۔اور مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔چک چہور ۱۱۷ کے وہ احمدی جو سانگلہ ہل میں کاروبار کرتے تھے۔دو تین روز تک شہر نہ جاسکے۔۸ مارچ کو جب سانگلہ ہل میں پہلی بار بازار گئے تو میلوس والے خون کا بدلہ خون سے لیں گے" کے نعرے لگا رہے تھے۔۔سانگله بل سانگلہ ہل کے قریبی دیہات میں بھی شورش کے اثرات ظاہر ہوئے مثلاً کوٹ رحمت خان اور موضع کوٹلی چک 1 میں جلوس نکلے اور گالیاں دی گئیں۔ان دنوں سانگلہ ہل کے قرب و جوار کے بعضی احمدی جہور مغلیاں ، میں آگئے جن کو اس گاؤں کے احمدیوں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے ان کے دبیات میں دوبارہ بسایا۔چک چہور ۱۱۷ پر بھی حملہ کرنے کا مشورہ کیا گیا گر اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو محفوظ رکھا۔مرا جنپور چک نمبر ہم میں احمدیوں کے صرف دو گھر تھے جو محصور ہو کر رہ گئے شرپ ناصر غول کے غول ان کے گھروں کے ارد گرد جمع ہو جاتے اور جو منہ میں آتا بکتے چلے جاتے تھے۔دار برتن میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب اسٹیشن ماسٹر واربرٹن کا ہر مہروں روپے کا سامان جوان کی عمر بھر کا اندوختنہ منھا، نہایت بے دردی سے لوٹ لیا گیا۔منڈی مرید کے۔اس جگہ بھی احمدیوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور وہ کئی روز تک اپنے گھروں میں بندر ہے البتہ وہ نمازوں میں ایک دوسرے سے ملتے اور صبر و شکر کا عہد کرتے نیز حضور کے روح پر در پیغامات پڑھتے۔شیخ محمد بشیر صاحب آزاد سابق امیر جماعت منڈی مرید کے نے اہل قصبہ کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سی خدمات انجام دی تھیں اور عوام پر ان کا گہرا اثر تھا۔مگر انہیں بھی