تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 96
فصل اوّل ضلع شیخو پوره ۱۹۵ء کے ہنگاموں میں ضلع شیخوپورہ کے احمدیوں کو بھی مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑا اس دور کو احمدیوں نے کس طرح گزارا، اس کا کسی قدر اندازہ مندرجہ ذیل تفصیل سے ہو سکتا یہ شہر دو ہفتے تک بدامنی اور فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنا رہا۔احمدیوں کا شدید شیخوپورہ شہر بائیکاٹ کیا گیا۔ملک محمد ظریف صاحب کو چھرا گھونپائی مگراللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا۔دس ہزار افراد نے شیخ گلزار احمد صاحب پٹواری کے مکان کا محاصرہ کیا اور پھر انہیں احمدیت سے توبہ کرنے کے لیے مجبور کیا گیا مگر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ میں " تائب ہونے کی بجائے شہید ہونے کو ترجیح دوں گا۔مخالفین کو جب مایوسی ہوئی تو انہیں حیلوں بہانوں سے جیل میں ڈال دیا گیا۔جہاں سے وہ ۱۲ر مارچ ۱۹۵۳ء کو دوہزار روپے کی ضمانت پر رہا ہوئے۔قاضی بشیر احمد صاحب معتمد مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کوارتداد پر مجبور کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ شام تک قتل کر دیئے جاؤ گے اور تمہارا امکان اور دکان جلا دی جائے گی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے خلاف بد زبانی بھی کی اس پر ان کی والدہ جوش میں آگئیں اور کہا کہ میرے گھر کی اللہ تعالے خود حفاظت کرے گا۔ہمارا ذرا سا بھی نقصان نہ ہو گا خواہ تم کتنا ہی زور لگا لو۔نصف گھنڈ کے بعد شہر کے بعض بد قماش لوگوں نے مکان کو نرغے میں لے لیا اور برہنہ ہو کہ ناچنے اور گالیاں دینے لگے۔اگلے دن بھی ۲۰۰ کے قریب آدمی مکان کے سامنے آکر نعرے لگانے اور کہنے لگے کہ احمدیت سے توبہ کر لو ورنہ آج تمہارا خاتمہ کہ دیا جائے گا۔بعض نے مکان کے صدر دروازہ کے بیچ میں کانے اور مٹی کا تیل لاکر رکھ دیا اس پہ قاضی بشیر احمد صاحب نے مکان کی پچھلی جانب پہلے اپنی والده اند بشیرہ صاحبہ کو اتارکر حکیم ظفر الدین احمد صاحب ولد حکیم عبدالجلیل صاحب بھیڑی سے گھر