تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 91 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 91

ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جماعت منظم ہے لیکن غلط افواہوں کی وجہ سے جو کہ منادی کے ذریعہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہوہ پر نزدیک کے دیہات والوں کا حملہ ہو گیا ہے اور مرزائی مسلمان ہو ر ہے ہیں۔یہ پراپیگنڈا سن کر بعض کز در احمدی ہراساں ہیں ایک احمدی مسٹمی مولی لیختنق جٹ تلونڈی جھنگلاں والے کے مکان پر پتھر پھینکے گئے اور اس کے گھر کی چار دیواری میں ایک کنویں سے اس کو پانی بھرنا بند کر دیا ہے۔اور پانی نکالنے والی بھونی اُتار کرلے گئے ہیں یا ایک موچی محمد شریعت کی جھگی کو آگ لگا کر جلایا گیا ہے جو کہ گاؤں سے باہر کی بیری کے درختوں کے پاس تھی۔پچاس ساٹھ آدمیوں کے جتھے سے چند آدمیوں نے مل کر اسکو جھنجھوڑا اور وہ بیچارہ اپنی جان بچا کر گھر آگیا۔تھانہ والے کسی قسم کا تعاون نہیں کرتے ایک تھا نیدا را در تین چار سپاہی اس جگہ متعین ہیں۔جس جگہ ٹھہرے ہیں وہاں سے باہر نکل کر دیکھتے ہی نہیں یا X- شہزادہ قریش عبد الحمن صاحب کی طرف سے مرکز میں موضع شہزادہ کی نسبت) مندرجہ ذیل اطلاع موصول ہوئی کہ۔اس گاؤں میں صرف تین احمدیوں کے گھر ہیں۔باقی سارا گاؤں مخالفت اور ایذا دہی پیراستہ ہے۔ایک مکان والے کی بیوی غیر احمدی تھی۔وہ سچوں کو لے کر سسرال چلی گئی لیکن اس کا مرد ثابت قدم رہا۔ایک گھر والوں کا پانی بند کر دیا ہے اور دوسرے ماسٹر صاحب کی عدم موجودگی میں اُن کے گھرپر حملہ کر دیا اور مستورات کو گھر سے نکل جانے کی دھمکی دی۔لیکن ان کی مستورات نے حضور کے ارشاد کے مطابق یہ جواب دے دیا کہ ہم اپنے پیارے آقا کے حکم کے ماتحت یہیں رہیں گی۔نکلیں گی نہیں۔خواہ ہمیں قتل کر دو۔اور ان تینوں گھر والوں کا بازار سے سودا سلقت بینا بالکل بند کر دیا گیا ہے۔اور ہر قسم کی ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔اسی طرح تنگ کرنے کے دوسرے ذرائع بھی سب اختیار کیے گئے ہیں۔محمد منیر صاحب امیر جماعت احمدیہ کھیوہ باجوہ نے لکھا کہ : - کمیوه با توه ور دن بدن زیادہ خطرے کی افواہیں پھیلتی گئیں پسر در بھی میرے ہی حلقہ امارت میں تھا۔اور وہاں مخالفین کا بہت زور تھا۔ان دنوں تھانیدار نے بھی جواب دے دیا لیکن جب مڑی نے انتظام ہاتھ میں لے لیا تو خطرہ کم ہونا شروع ہوگیا ورنہ پہلے یہی تھا کہ آج کلا سوالہ شہید سکھ۔وفات سیکم مئی ۱۹۸۴ء