تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 85 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 85

AY مرزا بشیر احمد صاحب نے جس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ خلافت کے بعد حکومت ہوتی ہے اس حدیث میں قانون نہیں بیان کیا گیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے حالات کے متعلق پیش گوئی کی گئی ہے اور پیش گوئی صرف ایک وقت کے متعلق ہوتی ہے سب اوقات کے متعلق نہیں ہوتی۔یہ امرکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد خلافت نے ہونا تھا اور خلافت کے بعد حکومت مستبدہ نے ہوتا تھا اور ایسا ہی ہو گیا۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر مامور کے بعد ایسا ہی ہوا کرے گا۔قرآن کریم میں جہاں خلافت کا ذکر ہے وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خلافت ایک انعام ہے۔پس جبتک کوئی قوم اس انجام کی مستحق رہتی ہے وہ انعام اسے ملتا رہے گا۔پس جہاں کام کئے اور قانون کا سوال ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی ہے اور وہ خلافت اس وقت تک چلتی چلی جاتی ہے جب تک کہ قوم خود ہی اپنے آپ کو خلافت کے انعام سے محروم نہ کر دے لیکن اس اصل سے یہ بات ہر گز نہیں نکلتی کہ خلافت کا مٹ بھانا لازمی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی خلافت اب تک چلی آرہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ پوپ صحیح معنوں میں حضرت شیخ کا خلیفہ نہیں لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی تو مانتے ہیں کہ اُمت عیسوی بھی صحیح معنوں میں شیخ کی اُمت نہیں۔پس جیسے کو تیسا تو ملا ہے مگر ما ضرور ہے بلکہ ہم تو یہ کھتے ہیں کہ جیسے موٹی کے بعد ان کی خلافت عارضی رہی لیکن حضرت عیسی علیہ السّلام کے بعد ان کی خلافت کسی نہ کسی شکل میں ہزاروں سال تک قائم رہی، اسی طرح گورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت محمدیہ تو اتر کے رنگ میں عارضی رہی لیکن سید محمدی کی خلافت سیح موسوی کی طرح ایک غیر معینہ وجہ تک چلتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ پر بار بار زور دیا ہے کہ مسیح محمدی کو مسیح موسوی کے ساتھ ان تمام امور میں مشابہت حاصل ہے جو امور کر تکمیل اور خوبی پر دلالت کرتے ہیں سوائے ان امور کے کہ جن سے بعض ابتلاء ملے ہوتے ہیں۔ان میں علاقہ محمدیت علاقہ موسویت پر غالب آجاتا ہے اور نیک تبدیلی پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ مسیح اول صلیب پر لٹکایا گیا لیکن سیح ثانی صلیب پر نہیں لڑکا یا گیا کیونکہ مسیح اول کے پیچھے موسوی طاقت تھی اور مسیح ثانی کے پیچھے محمدی طاقت تھی۔خلافت چونکہ ایک انعام ہے ابتلا نہیں اس لئے اس سے بہتر چیز تو احمدیت میں آسکتی ہے جو کہ مسیح اول کو ملی لیکن وہ ان نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتی جو کہ بیج اول کی اُمت کو ملیں کیونکہ مسیح اول کی پشت پر موسوی برکات تھیں