تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 86
۸۳ اور مسیح ثانی کی گشت پر محمد سی برکات ہیں۔پس جہاں میرے نزدیک یہ بحث نہ صرف یہ کہ بیکار ہے بلکہ خطر ناک ہے کہ ہم خلافت کے عرصہ کے متعلق بخشیں شروع کر دیں وہاں یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لیے عرصہ تک پہلے گی جس کا قیاس بھی اِس وقت نہیں کیا جا سکتا اور اگر خدانخواستہ بیچ میں کوئی وقفہ پڑے بھی تو و حقیقی وقفہ نہیں ہوگا بلکہ ایسا ہی وقفہ ہو گا جیسے دریا بعض دفعہ زمین کے نیچے گھسی جاتے ہیں اور پھر باہر نکل آتے ہیں۔کیونکہ جو کچھ اسلام کے قرون اولیٰ میں ہوا وہ ان حالات سے مخصوص تھا وہ ہر زمانہ کے لئے قاعدہ نہیں تھا لے دفتر مجلس خدام الان نوجوانانِ احمدیت کی عالمی تنظیم خدام الاحمدیہ کے مرکزی دفتر کی بنیا د سید نا حضرت مصلح موعود نے ہر ماہ تبلیغ ۱۳۳۱ اہش / ۶ فروری ۱۹۵۲ء کو اپنے دست مبارک سے رکھی۔قریباً پانچ ہزار روپیہ کی لاگت سے دفتر کے دو کمر سے اور ان کے آگے آٹھ فٹ چوڑا ہر آمدہ ، ایک سٹور اور ایک چوکیدار کا کمرہ تعمیر ہو چکا تو مورخہ ۵- اپریل ۱۹۵۲ء (مطابق ۵ شهادت ۳۳۱ اسش ، کو دفتر اپنی عمارت میں منتقل ہو گیا۔اس روز سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے بعد نماز عصر دفتر میں تشریف لا کر افتتاحی دعا کی۔دعا سے قبل حضور نے مجلس کے دفتر بنانے پر خوشنودی کا اظہار فرمایا اور اسے جلد مکمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اس موقعہ پر حضور نے ایک مختصر مگر ایمان افروز خطاب کیا جس میں فرمایا :- اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم جنگلوں میں رہیں تو ہمیں جنگوں میں رہنا چاہیئے اور اپنا کام کرتے پچھلے بنانا چاہیئے ہم چوہوں اور چھوٹیوں کو باہر پھینک دیتے ہیں تو وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔شہد کی مکھیوں کو دیکھ لو انسان ان کا تیار کیا ہوا شہد حاصل کر لیتا ہے اور انہیں دور پھینک دیتا ہے لیکن وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کام میں کا مینا رہتی ہیں۔اگر وہ اس بات کا انتظار کرتی رہیں کہ انہیں پہلی جگہ ملے تو کام کریں تو ہزاروں چھتے به روزنامه الفضل ۳ شهادت ۳۳۱ ایش/ ۳ اپریل ۱۱۹۵۲ ص ۳ + سے روزنامه الفضل ۱۷ شهادت ۱۳۳۱ مش / ۱۶- اپریل ۱۹۵۲ء