تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 82
۷۹ فرض ہے کہ ان امور کو حکومت کے سامنے لے جاؤ وہاں اگر تمہیں مایوسی نظر آتی ہے تو مایوس مت ہو کیونکہ اصل بادشاہ خدا تعالیٰ ہے اور جو فیصلہ بادشاہ کرے گا وہی ہو گا انسان جو فیصلہ کرے گا وہ نہیں ہوگا۔ایک افسر کی غلطی کی وجہ سے حکام کو توجہ دلانا چھوڑ نہ دو اور ایک افسر کی غفلت کی وجہ سے فائدہ اُٹھانا ترک نہ کرو محض چند افسران کا اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہونا ایسی چیز نہیں کہ تم حکام کے کام سے غافل ہو جاؤ تم انہیں تو قبہ ولاتے رہو اور ان کے پاس اپنی شکایات بنے جاؤ لیکن تمہارا ایمان تبھی مکمل ہو گا جب تم اپنی شکایات حکومت کے سامنے پیش تو کرو، تم ان امور کو لے کر افسران کے پاس جاؤ تو ضرور لیکن یہ خیال مت کرو کہ اگر وہ توجہ نہ کریں گے تو تم کو نقصان پہنچے گا۔اگر یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے تو خدا تعالیٰ نے ہی اسے پورا کرنا ہے۔جس دن تمہیں یہ یقین ہو جائیگا کہ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور وہ اسے ضرور کرے گا تو م موجودہ مخالفت سے گھراؤ گے نہیں پر انسان میں تھوڑی بہت شرافت ضرور ہوتی ہے تم اگر متواتر افسروں کے پاس بھاتے رہو گے تو ایک نہ ایک دن وہ شرما جائیں گے اور وہ خیال کریں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا نہیں کیا لیکن یہ لوگ اپنا فرض ادا کئے جارہے ہیں اور جب تم خدا تعالیٰ پر توکل کرو گے تو تم جانتے ہو کہ خداتعالی تمام رحمتوں اور فضلوں کا منبع ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ایک جماعت کو خود قائم کرے اور پھر اسے مٹا دے اس سے بڑی بے دینی اور بدظنی اور کیا ہو سکتی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال کرو کہ وہ تمہیں چھوڑ رہے گا یا آخر میں حضور نے قوت و یقین سے لبریز الفاظ میں پیش گوئی فرمائی کہ : اگر تم نیکی اور معیارِ دین کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا کبھی نہیں چھوڑے گا کبھی نہیں چھوڑے گا۔اگر دنیا کی ساری طاقتیں بھی تمہاری مدد کرنے سے انکار کر دیں تو خدا تعالیٰ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔اس کے فرشتے آسمان سے اُتریں گئے اور تمہاری مدد کے سامان پیدا کریں گے یا اے مارچ ۱۹۵۲ء کا واقعہ ہے کہ چوری محمدظفر اللہ خان مینا کا پارلیمنٹ میں اعلان حق پاکستان میں بائیں باز کے بین له الفضل ۲۳ ہجرت ۱۳۳۱ پیش / ۲۳ مئی ۱۹۵۲ء ص ، ص : بعض