تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 75 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 75

۷۲ بھی اس قسم کا اعلان شائع ہوا اور پھر سر پھٹول شروع ہوگئی۔خوارج اس ملک میں موجود نہیں تھے ورنہ وہ بھی اس قسم کا اعلان کر دیتے اور پھر سال ڈیڑھ سال کے بعد خود ترکوں نے بھی اسے جواب دے دیا تین چار سال کے بعد شملہ میں ہم سب ملے تو مولانا محمد علی نے کہا کتنا اچھا کام تھا لیکن آخر ہم اس میں ناکام ہو گئے مسلمانوں میں تفرقہ ہو گیا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے کہیں نے کہا مولانا میں نے مشورہ دے دیا تھا کہ یہ نہ لکھا جائے کہ ہم سب مسلمان سلطان ترکی کو خلیفہ مانتے ہیں کیونکہ اہل حدیث ، خوارج شیعہ اور ہم احمدی اسے خلیفہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ کہا جائے کہ سلطان ترکی جس کو مسلمانوں میں سے اکثریت خلیفہ مانتی ہے اور جو خلیفہ نہیں مانتے وہ بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔اگر میری بات مان لی بھائی تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا آپ نے یہ مشورہ ہمیں دیا ہی نہیں۔لیکن نے کہا آپ کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کو دیا تھا مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ کی۔یکی نے کہا اگر آپ میرا مشورہ مان لیتے تو اہل حدیث ، خوارج اور شیعہ کو شکایت پیدا نہ ہوتی۔آپ یہ لکھتے کہ اکثریت مسلمانوں کی سلطان ترکی کو خلیفہ مانتی ہے اور اقلیت اسے اپنے اقتدار کا نشان مانتی ہے۔وہ افسوس کرنے لگے کہ مجھے پہلے کیوں نہ بتایا۔پیس شیعہ ، کشتی اور منفی، وہابی اور احمدی اور غیر احمدی کے اختلاف کو چھوڑ دیا جائے اور ان کی اتحاد کی باتوں کو لے لیا جائے یہی اتحاد کا اصول ہے۔ا دوسرا اصول اتحاد کا یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز پرقربان دوسرا اسلامی اصول اتحاد کر دیا جائے۔اگر تم دیکھتے ہو کہ ہر بات میں اتحاد نہیں ہوسکتا تو تم چھوٹی باتوں کو چھوڑ دو اور بڑی باتوں کو نے لو۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جہاں توحید کا ذکر کرتا ہے وہاں مان باپ کا بھی ذکر کرتا ہے اور ان کی اطاعت اور فرمانبرداری پر زور دیتا ہے لیکن جب انبیاء دنیا میں آئے اور ان کی قوم نے یہ کہا کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے تو خد اتعالیٰ نے یہاں تک کہ دیا کہ کیا تم جاہلوں کی بات مانتے ہو۔باپ داد سے کی نفرت بے شک بڑی ہے لیکن جب ان کا مقابلہ خدا تعالیٰ سے ہو جائے تو انہیں چھوڑ دیں" عالمی اسلام کو دعوت اتحاد میں ان دونوں باتوں پر حل کیا جائے تو اتار ہوسکتا ہے اتحاد اس وقت پاکستان ، لبنان ، عراق، ارداوی، شام، مصر،