تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 76 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 76

۷۳ لیبیا، ایران، افغانستان، انڈونیشیا اور سعودی عرب یہ گیارہ مسلم ممالک ہیں جو آزاد ہیں اور ان سب میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔اگر انہوں نے آپس میں اتحاد کرتا ہے تو پھر اختلافات کو بر قرار رکھتے ہوئے ان کا فرض ہے کہ وہ سوچیں اور غور کریں کہ کیا کوئی ایسا پوائنٹ بھی ہے جیس پر وہ متحد ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی ایسا پوائنٹ مل جائے تو وہ اس پر اکٹھے ہو جائیں اور کہیں کہ ہم یہ بات نہیں ہونے دیں گے۔مثلاً یہ سب ممالک اس بات پر اتحاد کرلیں کہ ہم کس مسلم ملک کو خلام نہیں رہنے دیں گے اور بجائے اس کے کہ اس بات کا انتظار کریں کہ پہلے ہمارے آپس کے اختلافات دور ہو جائیں وہ سب مل کر اس بات پر اتحاد کر لیں کہ وہ کسی ملک کو غلام نہیں رہنے دیں گئے اور سب مل کر اس کی آزادی کی جد و جہد کریں گے نہیں طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کو دعوت دی تھی کہ آؤ ہم توحید پر جو ہم سب میں مشترک ہے متحد ہو جائیں، اسی طرح ہم سب مسلمان اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ ہم کسی کو غلام نہیں رہنے دیں گے اختلافات بعد میں دیکھے جائیں گے۔اسی طرح پاکستان کے مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے ہیں اور ان میں کئی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ان سب ممالک میں کوئی چیز مشترکی بھی ہے وہ اس پر متحد ہو سکتے ہیں مثلاً کبھی بات لے لو کہ ہم نے پاکستان کو ہندوؤں سے بچاتا ہے یا کشمیر حاصل کرتا ہے تم ان چیزوں کو لے لو اور بجائے آپس میں اختلاف کرنے کے ان چیزوں پر متحد ہو جاؤ بعد میں ملنے ملانے سے دوسرے اختلافات بھی دور ہو جائیں گے۔۔۔عالم اسلامی کا اتحاد بھی اسی طرح ہوگا۔اگر مسلم ممالک آپس میں اتحاد کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ اختلاف کے با وجود ہم دشمن سے اکٹھے ہو کر لڑیں گے اور ہم بھی اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ ہا بھی اختلافات کے باوجود ہم ایک دوسرے سے لڑیں گے نہیں لا نازک زمانہ کی خبر لا رہا ہے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں کو کھولیں اور خطابات کو دیکھیں، اور کم از کم اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مٹنے نہیں دیں گے یہ لہ نه روزنامه الفضل ریوه ۱۹۱۲ فتح ۱۳۲۱ پیش مطابق ۱۹۱۳ دسمبر ۰۶۱۹۶۲