تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 74
► اگر ہم اکٹھے ہوکر بیٹھ جائیں گے تو آہستہ آہستہ اتحادکی گئی صورتیں پہلا اسلامی اصول اتحاد نہیں آئیں گی۔الا مردہ باد خلال زندہ باد کے نعروں سے کچھ نہیں بنتا۔اگر کوئی نقطہ مرکزی ایسا ہے جس پر اتحاد ہو سکتا ہے تو اس کو لے لو کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اختلافا قائم رکھو بلکہ بعض دفعہ یہاں تک کہتا ہے کہ ہم اختلافات رکھنے میں تمہاری مدد کریں گے۔پھر یہ بیوقوفی کی بات ہے کہ ہم ان اختلافات کی وجہ سے اتحاد کو چھوڑ دیں۔میں نے عملی طور پر بھی اس کا بحریہ کیا ہے۔جب تحریک خلافت کا جھگڑا شروع ہوا اور مولانا محمد علی اور شوکت علی نے یہ تحریک شروع کی کہ انگریزوں کو کہا جائے کہ وہ سلطان ترکی کو جسے ہم مسلمان خلف تسلیم کرتے ہیں کچھ نہ کہیں ورنہ ہم سب مسلمان مل کر ان کا مقابلہ کریں گے تو انہوں نے باقی مسلمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ اس تحریک میں ان کے ساتھ شامل ہوں اور اس کے تعلق میں لکھنو میں ایک جلسہ کیا گیا یکی نے جب اس بات پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ شیعہ اور اہل حدیث سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے اور نہ خوارج سے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں اور پھر ہم احمدی بھی اس بات کے خلاف ہیں۔ہمارا ہیڈ خود خلیفہ ہوتا ہے۔یکس نے خیال کیا کہ یہ سارے لوگ یہ بات کیوں کہیں گے کہ ہم سب مسلمان سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ مانتے ہیں اس لئے اگر تم نے اس پر ہاتھ ڈالا تو ہم سب متحد ہو کر اس کی امداد کریں گے۔یکی نے جلسہ میں شرکت کے لئے ایک وفد لکھنو بھیجا اور انہیں تحریری پیغام بھجوایا کہ اگرم اسی صورت میں انگریزوں کے پاس جاؤ گے تو وہ کہیں گے کہ خوارج ، اہل حدیث اور شیعہ مسلمان عبد الحمید کو اپنا خلیفہ نہیں مانتے تم کیسے کہتے ہو کہ وہ سب مسلمانوں کا خلیفہ ہے ؟ میں نے کہا تم کیوں کہو کہ سلطان ترکی جسے مسلمانوں کی اکثریت تخلیفہ تسلیم کرتی ہے اور باقی مسلمان بھی ان کا احترام کرتے ہیں اگر تم نے اسے کچھ کہا تو ہم سب مسلمان مل کر تمہارا مقابلہ کریں گے۔اگر تم یوں کہو گے تو کام بن جائے گا کیسی احمدی شیعہ یا اہل حدیث کو یہ جرأت نہیں ہو سکے گی کہ وہ کہے سلطان عبد الحمید کو مار دو۔وہ دل میں بے شک ہے لیکن اس کا زبان سے اظہار نہیں کرے گا۔مولانا شوکت علی کی طبیعت جو شیلی تھی جب وفد میرا خط لے کر گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تفرقہ کی بات ہے۔پندرہ دن کے بعد اہل حدیث کی طرف سے اعلان شائع ہوا کہ ہم سلطان ترکی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے شیعوں کی طرف۔ے یہ پیغام ترکی کا مستقبل اور سلمانوں کا فرض" کے نام سے چھپا ہوا ہے یہ