تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 70 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 70

لیکن وہ شہر میں جاتا ہے اور اس کا مال چوری ہو جاتا ہے اور وہ گھر سے بھی رو پر منگوا نہیں سکتا تو اسلام کہتا ہے کہ زکوۃ میں سے اسے بھی کچھ دے دو۔ایک غریب آدمی قید ہو جاتا ہے۔اسکے بچوں کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تو اسلام کہتا ہے کہ زکواۃ میں سے اسے بھی کچھ دیر گویا اسلام نے زکواۃ کے نظام کو اس قدر وسیع کیا ہے اور اتنا نرم رکھا ہے کہ ہر قوم اور ہر گروہ کے لوگ اس کی طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں کہ کسی کا سر بھی نیچا نہ ہو کیونکہ بڑی زکواۃ حکومت خود دیگی۔مثلاً زمین ہے۔زمین کی زکوۃ یکی ذاتی طور پر نہیں دے سکتا بلکہ یہ زکواۃ گورنمنٹ کے پاس جمع کرائی جائے گی اور وہ آگے مستحقین تقسیم کرے گی۔اگر حکومت اس رقم میں سے کچھ میرے ہمسایہ کو دیتی ہے تو اگرچہ وہ میری رقم ہو گی لیکن میرا اہمسایہ ایسے گورنمنٹ سے حاصل کرے گا۔اس طرح وہ میرا ممنون نہیں ہوگا اور میرے سامنے نظریں نیچی نہیں کرے گا گویا زکوۃ لینے کے نتیجہ میں جو تغیر پیدا ہوتی ہے وہ پیدا نہیں ہوگی۔قرض اسلامی زکواۃ میں اس امر کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ غریب کی نظر نیچی نہ ہو۔اور باوجود مد دینے کے وہ امیر ہمسایہ کو کہ سکے کہ میں نے تجھ سے مدد نہیں لی " پھر قضاء ہے یہ بھی اسلام کی ہی ایک خصوصیت ہے اور یہ خصوصیت بھی اس بات کی قضاء ایک دلیل ہے کہ اسلام اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے۔ایک فرد اگر کسی کو ڈنڈا مارے تو قضاء اسے کہے گی کہ تم قاضی کے پاس بھاؤ وہ اسے ڈنڈا مارے گا یہاں تک کہ اسلام میں بدکاری کی سزا سخت ہے لیکن اس کے لئے بھی اسلام نے یہی تعلیم دی ہے کہ تم سزا کو اپنے ہاتھ میں نہ لو بلکہ معاملہ قاضی کے پاس لے جاؤ وہ سزا دے گا۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اس وقت یہودی سزا پر عمل کیا جاتا تھا۔ہاں شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر خاوند دیکھے کہ اس کی بیوی بد کاری کر رہی ہے تو کیا اسے حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مارڈالے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ہے اسے خود سزا دینے کا حق نہیں۔موسوی شریعت میں زنا کی سزا قتل تھی اور اس وقت تک اس بارہ میں موسوی شریعت کے مطابق ہی عمل کیا جاتا تھا۔اُس شخص نے عرض کیا جب زنا کی سزا قتل ہے تو خاوند سیب اپنی آنکھوں سے اپنی بیوی کو بد کاری کرتے ہوئے دیکھے تو کیوں نہ اُسے قتل کر دے ؟ رسول کریم مه ابو داؤد (كتاب المحدود)