تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 57 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 57

۵۵ محفوظ رہتے کیسی شاعر نے کہا ہے۔غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی یعنی گھڑیال سے وقت کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ فلان کی عمر زیادہ ہوگئی لیکن در اصل اس کی عمر کم ہو جاتی ہے۔فرض کرو کسی کی ۶ سال عمر مقدر تھی وہ جب پیدا ہوا تو اس کی عمر کے ساٹھ سال باقی تھے لیکن جب وہ ایک سال کا ہو گیا تو اس کی ایک سال عمر گھٹ گئی جب وہ دو سال کا ہو گیا تو اس کی دو سال عمر گھٹ گئی جب وہ دس سال کا ہوگیا تو اس کی دس سال گھر گھٹ گئی۔جب وہ پینی سال کا ہو گیا تو اس کی بہنیں سال عمرگھٹ گئی۔غرض ہر وقت جو اس پر گزرتا ہے وہ اس کی عمر کو گھٹاتا ہے۔اسی طرح ہماری زندگی ہے۔ہمارے بہت سے اوقات یونہی گزر جاتے ہیں اور ہم خیال تک نہیں کرتے کہ ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے۔مثلاً کل مجھے خیال آیا کہ کسی وقت ہم جلسہ سالانہ کی تیاریاں کر رہے تھے۔رات دن کا رکن اس کام میں لگے ہوئے تھے اور خیال کر رہے تھے کہ جملہ مسالانہ آئے گا تو مہمان آئیں گے۔اُن کے ٹھہرانے اور ان کی روحانی اور جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان ہم نے کرنا ہے۔وہ دن آئے۔دوست آئے ہم سے ملے جلے اور چلے بھی گئے ہم دل میں خوش ہوئے کہ ایک سال ختم ہو گیا ہے مگر سوچنے والی یہ بات تھی کہ ہم نے نئے سال کو کیس طرح گزارنا ہے۔جو سال گزر گیا وہ تو کوتاہیوں سمیت گزرگیا۔اصل چیز تو آنے والا سال ہے۔کل مجھے خیال آیا کہ یا تو ہم اتنے جوش اور زور شور سے آئندہ جلسہ کی تیاریاں کر رہے تھے اور یا اب اس جلسہ پر چودہ دن گزر گئے ہیں اور ابھی ہم بیکار بیٹھے ہیں۔چودہ دن کے معنے دو ہفتے کے ہیں ۵۲ ہفتوں کا سال ہوتا ہے دو ہفتے گزر جانے کا مطلب یہ ہوا کہ سال کا 14 واں حصہ گزر گیا لیکن ابھی کئی لوگ کہتے ہیں کہ وہ جلسہ سالانہ کی کوفت دُور کر رہے ہیں۔دو ہفتے اور گزر گئے تو سال کا تیرھواں حصہ گزر جائے گا لیکن نئے سال کے لئے شورا شوری شروع نہیں ہوگی چودہ دن اور گزر جائیں گے تو سال کا گیارہ فیصدی حصہ گزر جائے گا۔اور چودہ دن اور گزر گئے تو سال کا پندرہ فیصدی حصہ گزرجائے گا۔غرض بہت تھوڑی تھوڑی غفلت کے ساتھ ایک بہت بڑی چیز ہمارے ہاتھ سے نکل بھاتی ہے۔پس ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ہر سال جو ہم پر آئے ۱۴ ۱۴