تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 53 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 53

اه یہ کلیں جس کی بنیاد سید نا محمود جسے خلیفہ موجودہ کے مقدس ہاتھوں سے رکھی گئی تھی۔خدا کے فضل سے آپ بھی تخلیفہ وقت کی زیر نگرانی گرانقد رفقہی خدمات بجا لا رہی ہے۔صدر انجین احمدیہ پاکستان کے قاعدہ کے مطابق جن امور میں اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے و حدیت تشکری کے بھی قتمنی ہوتے ہیں ان کے بارے میں مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے فتوئی کی بجائے بھی مجلس افتاء فیصلہ کرتی ہے۔مجلس افتاء کے سال میں کم از کم چار اجلاس ضرور منعقد ہوتے ہیں۔اجلاس کا کورم دمنی مقرر ے لیے عمران مجلس کے لئے حکم ہے کہ وہ بیماری یا عدالت میں پیشی کے سوا بہر حال شریک اجلاس ہوں یا کم از کم سیکرٹری مجلس کو اجلاس سے ایک روز قبل اپنی معذوری سے مطلع کر دیں ورنہ وہ غیر حاضر متصور ہونگے ایسے رکن سے باز پرس ہو سکے گی لیے مجلس افتاء کے فیصلہ ۲۸ ماہ شہادت ۱۳۴۱ پیش / اپریل ۱۹۶۲ء) کے مطابق اگر کوئی ایسا مسئلہ خلیں افتاء کے زیر بحث آئے جو کسی رکن مجلس کے تنازع متدائرہ قضاء پر اثر انداز ہوتا ہو تو وہ رکن اس مسئلہ کی بحث اور فیصلہ میں شریک نہیں ہو سکتا ہے مخلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں جن مسائل پر مجلس افتاء نے غور و فکر کیا ان میں سود او را نشونی کا مسئلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔اول الذکر مسئلہ پر مولوی ابو العطاء صاحب، صاحبزادہ مرتدا طاہر احمد صاحب اور ملک سیف الرحمن صاحب نے ٹویں اور پر مغر تحقیقی مقالے لکھے جو مجلس افتاء کی طرف سے اسلام اور ریو" کے عنوان سے شائع شدہ ہیں۔صالح ۱۳۳۱اہش / جنوری ۱۹۵۲ء کو سال کا پہلا سالانہ پروگرام تجویز کرنے کی ہدایت جمعہ تھا جس میں حضرت امیر المؤمنين الصلح الموعود نے تاکیدی ہدایت فرمائی کہ جماعتی ادارے ہر سال اپنا پر وگرام شروع سے بھی تجویز کر لیا کریں اور پھر اس پر سختی سے عمل پیرا ہوں، چنانچہ فرمایا : فیصلہ ۵ ہجرت ۱۳۳۶ آرش رمئی ۶۱۹۵۷ ۱۹۵۰ء سے فیصلہ ۲۷ ہجرت ۱۳۲۱ پیش / مئی ۱۹۶۲ء : سے فیصلہ ۲ تبوک ۱۳۴۰ مش / مستمبر ۱۹۶۱ء سے مجلس افتاء اور اس کے فرائض مگر شائع کرد؟ دار الافتاء ربود ضلع جھنگ) : :