تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 41 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 41

۳۹ (ترجمہ) آپ اپنے خدا، مذہب اور ملک کی خاطر جو خدمت بھی انجام دیں اس میں پوری سنجیدگی، دیانتداری اور راستبازی سے کام لیں۔انسانی امداد پر انحصار نہ رکھیں۔اگر آپ کا کام محض اللہ تے کے لئے ہے تو وہ خود آپ کی تائید و نصرت فرمائے گا ورنہ کوئی فرد آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔خليفة السبيع ربوه ۲۶ جولائی ۱۹۵۱ء رساله در ولیش نظارت دعوت تبلیغ قادیان کی نگرانی میں چھپتا تھا اور صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اس کے نگران تھے۔مولوی مبارک علی صاحب طالب پوری ، چوہدری سعید احمد صاحب بی اے آنرز، محمد صادق صاحب ناقد لائلپوری نے بالترتیب اس کی ادارت کے اور کرم یونس احمد صاحب اسلام نے تابع و ناشر کے فرائض انجام دئے۔ابتدا یہ رسالہ مریم پرنٹنگ پریس امرتسر سے چھپوایا گیا۔پھر راما آرٹ پر لیس امرتسر سے طبع ہونے لگا۔رسالہ کا سرورق منارہ اسیح کے نہایت دلکش اور خوبصورت فوٹو سے مزین ہوتا تھا۔انقلاب ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد مرکز سے شائع ہونے والا یہ پہلا رسالہ تھا اور اسے ہندوستان اور پاکستان کے مشہور احمدی علماء اور ادباء کی علمی وادبی سر پرستی حاصل تھی۔اس کے مضمون نگاریں میں حضرت عرفانی الجبیر، حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی ، حضرت مرزا برکت علی صاحب جیسے بزرگی میں ہر اور مولانا ابو العطاء صاحب ، مولوی شریف احمد صاحب امینی، مولوی محمد اسمعیل هنا یادگیری مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری، ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے اور مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانی اور مولوی غلام بادی صاحب سیلف پروفیسر جامعہ احمدیہ اور چوہدری محمد شریف صاحب مجاہد بلا در یہ جیسے علماء اور سید اختر احمد صاحب اور نیوی ایم۔اسے پٹنہ کالج جیسے ادباء اور شیخ عبد القادر صاحب محقق عیسائیت، سید ارشد علی صاحب لکھنوی اور پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب جیسے فاضل شامل تھے۔احمدی شعراء میں سے خاص طور پر چوہدری عبد السلام صاحب اختر، جناب قیس کینائی صاحب جناب مصلح الدین صاحب را جیکی، جناب عبد المنان صاحب ناہید اور جناب ماسٹر پر شیخ صاحب مسکم کا کلام رسالہ کی زینت بنتا رہا۔