تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 501
۲۹۱ ہم اختیار کی تضحیک کا نشانہ بنے۔صہ اغیار نے بات کا بتنگڑ اور رائی کا پہاڑ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔مہ خود ہمارے اندرونی مسائل سلجھنے کی بجائے اور مشکلات میں اضافہ ہوا " ناموس رسول" (استقلال پریس لاہور) ایک مسلمان کی جان و مال اور آبرو دوسرے مسلمان کے لئے اتنی مقدس ہونی چاہیئے جتنا یہ مینہ یہ دن اور یہ مقام ہے یا پیغمبر اسلام نے یہ فرمان ذی الحجہ کے مہینے حج کے دن عرفات کے میدان میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا۔اور پھر اس پیغام کی اہمیت کے پیش نظر فرمایا :- جو لوگ یہ بات سُن رہے ہیں اسے دوسروں تک بھی پہنچا دیں " ذرا سوچئے اس صریح فرمان نبوی کے مقابلے میں ہمارا طرز عمل کیا ہے ؟ ہ پچھلے دنوں پنجاب میں ناموس رسول کے مقدس نام پر کیا کچھ نہیں کیا گیا ؟ فتنہ و فساد، خونریزی، آتش زنی، شرفاء کی توہین عورتوں کی بے حرمتی فحش کلامی ہائے ہائے کے ناچ کیا یہ سب کچھ اسلام، خدا اور رسول کے ساتھ محبت کی دلیل تھی ؟ کیا ہمارا مذہب اور ہمارا امتدان جس کے فروغ کے لئے ہم نے پاکستان حاصل کیا ہمیں نہیں کچھ سکھاتا ہے؟ در آن به قم ) (گورنمنٹ پرنٹنگ پریسی پنجاب ) سیدنا حضرت مصلح موعود کا پر شوکت پیام میں اس وقت کہ فقہ وفاد کے خطے پوری شرت سے بھڑک اُٹھے اور مادہ پرستوں کی جماعت احمدیہ کے نام نگاہ میں پنجاب بلکہ پاکستان بھر سے تحریک احمدیت کا نام و نشان تک معدوم ہو جا تا قطعی اور یقینی نظر آرہا تھا اسید تا محضرت امیر المونین مصلح المرور