تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 502
۴۹۲ نے خدا تعالی کی تحریک خاص سے سایر امان ۳۳۲ ایش (مارچ ۱۹۵۳ء) کو جماعت احمدیہ کے نام سیب ذیل پر شوکت پیغام دیا۔یہ پیغام اگلے روز ہفت روزہ فاروق کے صفحہ اول پر علی قلم سے شائع ہوا اور یل شوکت پیغام دیا۔یہ اے ملک بھر میں پہنچ گیا ہئے اعوذ بالله من القيطنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الن سامير حضرت امیر المومنین ایک اللہ تعالیٰ کا پیغام برادران اسلام عليكم ورحمة الله و بركاته الفضل کھا ایک سال کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔احمدیت کے باغ کو جو ایک ہی مہر لگتی تھی اس کا پانی روک دیا گیا ہے۔پس دُعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ سے مد مانگو اس میں سب طاقت ہے ہم مختلف سے اسی روز لاہور کے مندرجہ ذیل چھ ممتاز شیعہ زعماء نے احرار سی تحریک سے گھلے لفظوں میں لا تعلقی کا اعلان کیا :- ا مولانا شبیر حسین صاحب بخاری سیکرٹری ادارہ تحفظ حقوق شیعہ ۲۔مولانا عبد الغفور صاحب ا مرد اما مینہ کر بلا گامے شاہ ۳ مولانا محمد حسین صاحب مختار الفاضل و مولوی فاضل ، مولانا محمد باقر صاحب در جناب سید عابد حسین صاحب -- جناب نوابزادہ اصغر علی خان ان کا ہر نے ایک مشترکہ بیان میں فرمایا :- پاکستانی مرزائی جماعت کے بارہ میں ہماری متفقہ اور سلمہ رائے ہے کہ عقائد کے اختلاف کی بنا پرکسی جماعت یا فرقے کو اقلیت قرار دینا اور اس پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا مطالبہ کرنا صریح ناجائز اور نا انصاف پر مبنی ہے ہم شیطان پاکستان کی جانب سے احراری مولویوں کی تحریک سے قطع تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپیل کرتے ہیں کہ اس نہیں کے نام کو جنگ اور بدامنی کابہانہ ہ بنائیے جو دنیا میں امن و آشتی اور سلامتی کا پیغام کی آبا د روزنامه آفاق در مارچ ۱۹۵۳ شاه الفضل کی بندش پر لاہور ہی سے ہفت روزہ فاروق مکرم مولوی محم شیفت صاحب الشرق درحال مرتی انڈونیشیا) کی ادارت میں جاری کیا گیا تھا۔یہ اخبار بی ام را در وا ا مارچ ۱۹۵۳ء کی دو اشاعتوں کے بعد بند کہ دینا پڑا انت