تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 488 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 488

۷۸ نے بھی علماء کے راست اقلام کے فیصلہ کو انتہائی نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھا۔چنانچہ بیٹی کے مسلمان اخبار انقلاب نے احراری احمد کی کشمکش پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔ے ہوئے لکھا۔فته عظیم از پاکستانی علماء کد ھر جارہے ہیں" پاکستان میں احراریوں نے احمدیوں کے خلاف جو ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے اس کی ہر سلیم العقل انسان قدمت کرنے پر مجبور ہے ہمیں قادیانیوں کے مذہبی تصورات سے کوئی لچسپی نہیں ہے اور ختم نبوت کے باب میں ان کے عقائد کو ہم قطعاً غلط تصور کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہم اس مہنگامہ کی ہر گتہ تائید نہیں کر سکتے جو کراچی اور لاہورمیں برپا ہے اور جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ مملکت پاکستان کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں منافرت باہمی پھیلانے کا بھی شدید اندیشہ ہے۔آج کے حالات میں جب کہ دنیا کے گوشہ گوشہ سے اتحاد اسلامی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں اور مسلمانوں کا صاحب شعور طبقہ فروعی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے اپنی متحدہ طاقت کے بل پر اسلامی نشاة ثانیہ کا خواب دیکھ رہا ہے۔اختلاف عقائد کی بنیاد پر ایک تحریک کا شروع کر دیا جانا ایک ایسی مذموم اور تکلیف دہ حرکت ہے سننے سنجیدہ مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔اور ہم انتہائی رنج و افسوس کے ساتھ ایک ایسی تحریک کی مذمت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جس کی قیادت کا فریضہ منا علماء اسلام انجام وے رہے ہیں۔جہاں تک ان مطالبات کا تعلق ہے جو احراریوں کی طرف سے پیش کئے جارہے ہیں ہم کسی حالت ہیں ان کی تائید نہیں کرسکتے۔اگر مولوی صاحبان کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ جس فرقہ کو چاہیں ایک ذرا سا شور و شخب بر پا کر کے غیرمسلم اقلیت قرار دلا دیں تو پاکستان میں اسلام کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔آج چند مولویوں کے مطالبہ پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا سکتا ہے تو کل شیعوں دیوبندیوں ، شافعیوں، مالکیوں حنفیوں ، مقلدوں، غیر مقلدوں، بوہروں ، آغا خانیوں اور دوسروں پر بھی ہی مصیبت طاری کی جا سکتی ہے۔ہر فرقہ کے مولوی صاحبانی دوسرے فرقہ کے لوگوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔اور اگر حکومت ان سب کے مطالبات قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دے تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں سرے سے کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا اور وہ ایسی غیر مسلم