تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 487
ہمیں امید ہے کہ حکومت اب اپنی گزشتہ پالیسی کو بدل دے گی اور اس کو اپنے فولادی ہاتھوں سے دبا دینے اور کیفر کردار تک پہنچانے میں ذرہ برابر تامل نہ کرے گی۔اس صورت میں حکومت نے جو بھی قدم اٹھایا اسے عوام کی حمایت حاصل ہوگی۔(ترجمہ) نے | ۳ - روزنامہ انصاف نے اپنی ہم۔مارچ ۱۹۵۳ء کی اشاعت میں " ناتا بیل اخبار انصاف برداشت کے زیر عنوان لکھا:۔احرار نے قادیانیوں کے خلاف کیوں سر اٹھایا ؟ کیا یہ مذہبی مفاد ہے یا کچھ اور ؟۔۔۔احمار تقسیم ملک سے قبل ہمیشہ سیاست سے وابستہ رہے اور مذہب سے ان کو چنداں دلچسپی نہ تھی۔اور یہ تو مشہور بات ہے کہ ہندو کانگریس کے مسلم کش انتر عمل کو دیکھ کر سب مسلمان زعماء یکے بعد دیگرے کانگریس سے علیحدہ ہو گئے اور مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہو کر اپنے حقوق کے تحفظ کی جد وجہد کرنے لگے ان دنوں احرار نے کانگریس کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کی ڈٹ کر مخالفت کی لیکن ان کی ساری کوششیں اکارت گئیں۔پاکستان اس وقت مسلم لیگ کی قیادت میں تیزی کے ساتھ شاہراہ ترقی پر گامزن ہے خصوصاً چو ہری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ہاتھوں اسے نہ صرف شہرت نصیب ہوئی بلکہ بین الا قوامی برادری میں اسے ایک نمایاں مقام حاصل ہو چکا ہے۔ایسے مرحلہ پر چوہدری صاحب کو وزارت خارجہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ حکومت کے خلاف بغاوت نہیں تو اور کیا ہے ؟ ہم ہر پاکستانی سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ وقت اختلاف کا ہے؟ ایسے وقت میں جبکہ ہمارا وطن مختلف مسائل میں الجھا ہوا ہے دارالسلطنتکے امن اور سرکاری نظم ونسق کو درہم برہم کرنے کا عمولی خیال رکھنے والے ہر شخص کو ہم مشکوک سمجھتے ہیں ہمارا خیال ہے کہ ایسے لوگ پاکستان اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں ان کی یہ حرکت ہر گز برداشت نہیں کی جاسکتی انہیں پوری قوت سے دبا دینے کی ضرورت ہے ورنہ آنے والی نسلوں کی نظر میں ہم قصور وار ٹھہریں گے۔(ترجمہ) بنگالی مسلمانوں کی طرح ہندوستان کے متدین راست اقدام کی دھمکی اور بھارتی مسلمان اور قمت اسلامیہ کا دورہ رکھنے والے مسلمانوں له " آلاد یکم مارچ ۶۱۹۵۳