تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 482
۴۷۲ سے بڑے دشمن مولوی کو اپنا دوست سمجھ رہے تھے حالانکہ یہ اسی کی سازشوں کا نتیجہ تھا کہ وہ اس قدر بری حالت تک پہنچ گئے تھے عوام کی سادہ دلی اور شدید ذہبی رجحانات کی وجہ سے نہ صرف مقامی مولوی عوام کو لوٹ رہا تھا اور اپنی من مانی کارروائی کر رہا تھا بلکہ ہندوستان کے تقریباً ہر گوشہ سے بڑا بڑا جغادری مولوی اور پر ہر سال مشرقی بنگال پہنچ جاتا اور تبلیغ دین کے نام سے اپنی اپنی جھولیاں بھر بھر کر واپس آیا کرتا تھا مولویوں کی آمد ورفت اور لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ اس طرح جاری تھا کہ ائے کے الیکشن کا اعلان ہو گیا جو پاکستان کے نام پر لڑا جار ہا تھا۔الیکشن کے سلسلہ میں کلکتہ اور بھارت کے دوسرے مقامات کے بہت سے مسلم لیگی لیڈروں نے مشرقی بنگال کا دورہ کیا اور لوگوں پر پاکستان کی اہمیت واضح کرنی شروع کر دی مسلم لیگی لیڈروں کا اثر اور عوام کو پاکستان کی حمایت پر آمادہ دیکھ کر ہندوؤں نے اپنے امیر مولویوں کو مسلم لیگی لیڈروں کا زور توڑنے کے لئے بھیجا۔دور جعفر کے ان تازہ پہنچیوں نے اپنی تقریروں میں مسلم لیگی لیڈروں پر کفر کے فتو سے لگائے۔پاکستان کی تحریک کو انگریزوں کا شگوفہ بتا یا اور ہرممکن کوشش کی کہ یہ تحریک مقبول عام نہ ہونے پائے لیکن جناح کے خلوص اور پاکستان کے نام میں کچھ ایسی بجا ز بیت تھی کہ ہندوؤں اور انگریزوں اور مولویوں کے علی الرغم ملم عوام نے مسلم لیگ کو ووٹ دئے اور ۱۹۴۶ء کے مرکزی اسمبلی کے الیکشن میں بنگال کے تمام کے تمام ممبر نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ان کے حریفوں کی ضمانتیں بھی ضبط ہو گئیں۔الیکشن کے نتائج کے اعلان کے بعد مولویوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔انہیں الیسا معلوم ہوا کہ عوام نے ان سے بغاوت کردی ہے۔ان کو اپنی شکست سے بڑا دھچکا لگا بنگال کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا کہ عوام نے مولویوں کی خواہش بلکہ حکم کے خلاف سلم لیگ کے نمائندوں کو کامیاب بنایا۔تھا۔انہیں اپنی نا کامیابی کا بڑا تعلق تھا۔پھر ان مولویوں کے لئے سب سے بڑی مصیبت پڑھی کہ انہوں نے جن ہندو ساہوکاروں اور زمینداروں سے روپے لے کر عیش کئے تھے وہ ہندو بھی ان سے ناخوش تھے اور انہیں ناخوش ہونا بھی چاہیئے تھا چنانچہ انہوں نے ان مولویوں کو دھمکی دی کہ اب ہم تمہاری کیسی قسم کی کوئی مد کرنے کو تیار نہیں۔تم نے ہمارے لاکھوں روپے مفت میں ضائع کر دئے۔ان مولویوں نے ہندوؤں کو سمجھایا کہ اس الیکشن میں اتفاقی طور سے شکست ہو گئی ہے ورنہ عوام کے دلوں پر اب بھی ہمارا راج ہے۔اگر تم ہماری مدد کرو تو ہم قیام پاکستان کے روکنے کے لئے سارے مشرقی پاکستان کے عوام