تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 472 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 472

۴۶۲ گنجائش رکھ بھی دی گئی تو مسلمان کی صحیح تعریف پر اتفاق رائے مشکل ہو جائے گا۔جب میکن نے مسلمانوں کی تعریف کا ذکر کیا تھا تو میرے ذہن میں ایک ایسی تعریف تھی جس کے مطابق احمد یوں پر پابندی لگادی جائے لیکن مسلمانوں کے دوسرے طبقوں پر اس کا اطلاق نہ ہو ختم نبوت کے مسئلہ پر مجھے علماء سے پورا پورا اتفاق ہے لیکن علماء کے اس بیان سے مجھے اتفاق نہیں کہ اس معاملہ میں ناموس پیغمبر علیہ السلام شامل ہے۔پچھلے تجربات خاص طور پرتقسیم ملک سے پہلے کے تجربات نے بتایا ہے کہ سول نافرمانی کی تمام تحریکیں اس اعلان کے ساتھ مشروع ہوئیں کہ یہ پھر امن رہیں گی لیکن ان تمام تحریکوں کا خاتمہ نشد و بچہ ہوا اور یہی چیز پنجاب میں ہوئی۔اس تحریک کے پیس پر وہ وہ لوگ ہیں جو سیاسی اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔میری مراد صوبہ پنجاب کے اُن لیڈروں سے تھی جن کے ہاتھ میں صوبائی حکومت کی باگ ڈور تھی مجھے برابر اطلاع مل رہی تھی کہ خود وزیر اعلیٰ اور اُن کے افسر خود تحریک کی جو صلہ افزائی کر رہے تھے۔یں نے اعلیٰ اختیارات والی سہ روزہ کانفرنس میں (جو ۱۳ فروری ۱۹۵۳ء کو شروع ہوئی اور جس میں گورنر مشرقی پاکستان کے سوا پاکستان کے باقی صوبوں کے گورنروں اور وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی تھی) کہا تھا کہ یہ درست ہے کہ احمدیوں کو اپنے عقیدے کے مطابق دوسروں کو اپنے مذہب میں شامل کرنا چاہیے لیکن اس وقت کر وڑوں غیرمسلم دائرہ اسلام سے باہر ہیں ان کا فرض اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو احمدی بنانے کی بجائے غیر مسلموں کو مسلمان بتائیں۔اس سلسلے میں مر ظفر اللہ خان نے دو سوالات کئے تھے (1) کیا احمدیوں کو نجی کا نفرنسیں کرنے کی اجازت ہوگی (۲) اگر کوئی مسلمان احمدیوں کا لٹریچر مانگے اور اگر اس کے لئے لڑر پھر فراہم کر دیا جائے تو کیا اس مسلمان پر کوئی اعتراض ہو گا۔یکس نے پہلے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر احمدی کسی مسلمان کو مدعو نہ کریں اور وہ مسلمان اُن کی مجلس میں شریک ہو جائے تو اس پر اعتراض نہیں ہو گا۔دوسرے سوال کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ اگر احمدی اپنا لڑ پر مسلمانوں میں خواتقسیم نہ کریں اور کوئی مسلمان اُن کا لڑ پھر مانگے تو اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔اسی قسم کے دو ایک اور سوالات تھے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب امیر جماعت احمدیہ پنجاب کو سہولت دیں گے کہ وہ اپنی جماعت کی کونسل کو تبلا کر ان سے اس سوال پر بحث کریں گے۔