تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 464
۴۵۴ کیا گیا تھا کہ میاں ممتاز دولتانہ ختم نبوت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے اسے لیکن جناب چوہدری فضل الفنی صاحب نے پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں یہ حیرت انگیز انکشاف حیرت انگیز انکشاف کیا کہ :- "مسٹر دولتانہ کی اس سیاست بازی کا مقصد صرف داخلی نہ تھا بلکہ بین الاقوامی سیاسیات سے بھی متعلق تھا۔ان کا مقصد یہ تھا کہ خواجہ ناظم الدین کو اقتدار کی رسی سے اتار پھینکیں، خود اپنی قیادت میں ایک مرکزی حکومت قائم کریں اور پاکستان کو ایک کمیونسٹ مملکت بنا دیں ہی ہے چول چون ۲۲ فروری ۱۹۵۳ء کی میعاد کے اختتام کا وقت پنجاب سول سیکرٹریٹ کا خط قریب تر آنا گیا سول والے کی تیاریاں زیادہ زور شور سے مرکزی وزارت داخلہ کے نام ہونے لگیں۔اس پر آشوب دور کی کیفیت پر پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور کا مندرجہ ذیل خط خوب روشنی ڈالتا ہے۔یہ خط ۲۱ فروری ۱۹۵۳ء کو وزیر ہے پنجاب کی منظوری سے سیکریٹری حکومت پاکستان وزارت داخلہ کراچی کو لکھا گیا تھا۔2249-BDSBA" پنجاب سول سیکرٹریٹ لاہور ۲۱ فروری ۶۱۹۵۳ مکرمی احمد صاحب از راہ کرم غیاث الدین احمد کی ڈی او چیھی نمبر 22,53 - 14682 مورینہ ۱۲۱ اکتوبر ۶۱۹۵۲ بنام حمید الدین احمد جو احمدی احرار شورش کے موضوع پر لکھی گئی تھی بغرض حوالہ پیش نظر رکھ لیجئے۔کچھ وقت کے لئے شورش کی رفتار نرم پڑ گئی تھی لیکن حال ہیں میں عوام کی ایس پی کو تیز کرنے کی کوششیں خاصی شدت کے ساتھ دوبارہ جاری کر دی گئی ہیں۔صوبے بھر میں بے شمار کا نفرنسیں اور جلسے منعقد کئے گئے ہیں اور آتش ریز تقریریں کی گئی ہیں۔ملاؤں کی تائید و حمایت حاصل کر لی گئی ہے اور احمدیوں کے خلاف زہر اُگا جا رہا ہے۔گو جرانوالہ میں مطبوعہ اشتہارات نشر کئے گئے جن میں ه روزنامه قمت ۴ در اکتوبر ۶۱۹۵۳ صد کالم علاه نے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب م۳۰۲ به