تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 463
۴۵۳ کی اور میاں صاحب انتخاب جیت گئے جس سے احرار دولتانہ پیٹ کی بنیاد پڑی۔انہی حقائق کی بناء پر جناب حمید نظامی صاحب مدیر نوائے وقت نے قطعی طور پر یہ رائے قائم کی کہ احراری مطالبات ہرگز قبول نہیں کئے جانے چاہیئے تھے اور یہ مطالبات بعض سیاسی طالع آزماؤں نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کئے تھے یا اے گٹھ جوڑ کے مقاصد پر سیاسی طالع آزما کیا چاہتے تھے اور ان کے گٹھ جوڑ کے بنیادی مقصد یہ کیا کیا تھے ؟ اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔ادارہ ثقافت اسلامیہ کے سربراہ جناب خلیفہ ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب ایم۔اسے پی ایچ۔ڈی کا بیان ہے کہ پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک ملائے اعظم اور عالم مقتدر سے جو کچھ عرصہ ہوا بہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا۔انہوں نے فتوی دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو خالی نہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ایک اور فرقہ کی نسبت پوچھا جس میں کروڑپتی تاجر بہت ہیں۔فرمایا کہ وہ سب واجب القتل ہیں۔یہی عالم ان تنیس بیس علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقے کو تسلیم کر لیا جائے سوا ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے ہیں تو وہ بھی واجب القتل مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔انہیں میں سے ایک دوسرے سربراہ عالم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقے کے خلاف شروع کیا ہے اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسروں کی خبر لی جائے گی یہ کہ مسٹر عبد الرحیم شبلی بی کام سابق چیف ایڈیٹر روز نامہ زمیندار کا بیان ہے کہ :۔اس زمانے میں یہ خیال تھا کہ صوبہ میں گڑبڑ ہو گی اور دفعہ ۹۲ الف کے تحت صوبائی اسمبلی توڑ دی جائے گی جس کے بعد نئے انتخابات کی ضرورت پڑے گی۔ایسی ہنگامی صورت حال کے لئے یہ انتظام " لے روزنامہ ملت " لاہور ۲۵ دسمبر ۱۹۵۳ء مت۔+ سے اقبال اور ملا صدا مصنفہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ایم۔اے پی اینکے۔ڈی۔ناشر بزم اقبال نرسنگھ داس گارڈن کلب روڈ۔لاہور ؟