تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 462
۴۵۲ اندازہ کر نا چندائی مشکل نہیں ہے ) تحریک راست اقدام کا خالص سیاسی ہونا حکومت کے ذمہ دارا فقروں خالص سیاسی تحریک پر روز روشن کی طرح واضح تھا چنانچہ میاں انور علی صاحب ڈپٹی اسپیکٹر جرائی سی آئی ڈی نے اپنے ایک بیان میں کہا :- احرار پارٹی اپنی پرانی سیاسی پوزیشن حاصل کرنا چاہتی تھی اور احرار کا خیال تھا کہ مطالبات پر زور دینے سے حکومت پریشان ہوگی اور احرار کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا یا لے یہ مطالبات کہنے کو تو مذہب کے نام پر پیش کئے جا رہے تھے لیکن بہت سی جماعتیں بھانتی تھیں کہ یہ بنیادی طور پر سیاسی جھگڑے ہیں اور وہ ان سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔ان مطالبات کو چونکہ مذہبی رنگ دے کر پیش کیا جارہا تھا اس لئے سرکاری ملازموں کے لئے یہ ایک نازک و پیچیدہ مسئلہ بن گیا تھا کہ وہ کا روائی کریں تو اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ وہ مطالبات کی مخالفت کر رہے ہیں " سے تحریک کے ایک مشہور لیڈر مولانا اختر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے بھی اپنے ایک بیان میں یہ اعتراف کیا کہ : تحریک ختم نبوت میں احرار پیش پیش تھے کیونکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی شہرت بحال کرنا چاہتے تھے سے اس سلسلہ میں احرار نے جناب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ایک خفیہ سمجھوتہ کیا تھا جس کا سراغ ہمیں جناب " غازی سراج دین صاحب منیر کے ایک تحریری بیان سے ملتا ہے جو انہوں نے تحقیقاتی عدالت پنجاب میں دیا تھا یہ اس سمجھوتہ کی بعض تفصیلات محمد نور الحق قریشی ایم۔اسے ایل ایل بی ایڈووکیٹ ملتان کی کتاب سوانح حیات خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے صفحہ ۳۵ ، ۳۶۶، ۳۶۷ میں بھی درج ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص معاہدہ کے تحت احراری لیڈروں نے انتخاب ۱۹۵۱ء کے دوران حلقہ بوریوالہ میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے حق میں کنوینگ سے روزنامہ ملت " لاہور کار دسمبر ۱۹۵۳ء مت : سه روز نامه انت لاہور ۱۸ر دسمبر ۶۱۹۵۳ مد سے روزنامہ آفاق کی ہو۔۳۰ اکتوبر ۱۹۵۳ ۶ ست به که روزنامه آفاق لاہور ۲۸ اگست ۱۹۵۳ء صا