تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 456 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 456

۴۴۶ رکھنے کا موجب ہونی چاہیے۔اختلافات ہمیشہ رہیں گے ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے رواداری سے کام لیں اور مختلف نقطہ ہائے نظر میں جو باتیں مشترک ہوی ان کو زیادہ سے زیادہ اُجاگر کرنے کی کوشش کریں۔خود اسلام کے متعلق مولانا مودودی کے اپنے نظریات دوسرے لوگوں کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہیں۔مثال کے طور پر ان کا اعتقاد ہے کہ جو شخص اسلام سے ارتداد اختیار کرتا ہے اسے قتل کر دینا چاہیئے۔ایسا اعتقاد رکھنا اس قرآنی آیت کی واضح لغی پر دلالت کرتا ہے کہ لا اكبر الا في الدِّینِ یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبرود باؤ جائز نہیں ہے۔کیا قرآن مجید کی اس غلط توجیہ کے پیش نظر یہ کہنا درست ہوگا کہ مولانا اور ان کی جماعت قرآن سے پھر گئی ہے لہذا اسے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے ہے کبھی نہیں۔ان کی بعض تو جہیات کتنی ہی غلط کیوں نہ ہوں لیکن جب تک وہ قرآن کو حکم مانتے ہیں دنیا کی کوئی طاقت انہیں اسلام سے خارج نہیں کر سکتی۔یہی اصول قادیانیوں کے حق میں ناطق ہونا چاہیئے۔جب تک کوئی شخص قرآن اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقراری ہے وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اسے سلمان قرار دیا جائے۔اس سے اتر کر کوئی ملا تو یہ کسی شخص کو خارج از اسلام کا مزا وار نہیں ٹھرا سکتی یہ علماء سے اپیل کریں گے کہ وہ سیاسی اغراض کی تکمیل کے لئے اسلام کو آلہ کار بنا کر خدارا اسے بد نام نہ کریں بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ نے ملک میں ایک سو فیصدی اسلامی دستور کے نفاذ کی ضمانت دے دی ہے اور اس لحاظ سے علماء اب تک رپورٹ میں کوئی نقص نہیں نکال سکتے ہیں آب اور کچھ نہیں تو وہ قادیانیت کا نعرہ ہی وہ آخری سہارا رہ گیا ہے کہ جیس کی مدد سے وہ حکومت کی درگت بنانا چاہتے ہیں۔یہ طریق نہ وطن دوستی کے موافق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ملک کا کوئی سچا بہی خواہ قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لائے گا کیونکہ اتحاد اور یکہتی ہی پاکستان کے بقا و استحکام کے اصل ضامن ہیں۔علاوہ ازیں مذہب کے معاملات میں تشدد کی تعلیم دینا اسلام کے بھی سراسر منافی ہے کیونکہ اسلام مذہبی اختلافات طے کرنے کے لئے ایک ہی سہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ دلائل و براہین کا ہتھیار ہے ہمیں چاہیئے کہ ہم قادیانیوں کو دلائل سے سمجھائیں کہ ختم نبوت کے متعلق ان کی پیش کردہ تو جہیہ درست نہیں ہے