تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 452 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 452

کرتے ہیں اور ہمارا ذہجہ کھا یا و مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے پس تم اللہ کے دئے ہوئے ذمے ہیں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرویا اس کے حان معنیٰ یہ ہیں کہ اسلامی حکومت میں شہریوں کو بنیادی حقوق کی جو ضمانت دی جاتی ہے وہ در اصل خدا اور رسول کی طرف سے نیا نہ دی جاتی ہے۔اور اگر کوئی حکومت یہ ضمانت دیتے کے بعد قانون الہی کے سوا کسی دوسرے طریقے پر شہریوں کے اس حق کو چھپنے تو وہ در اصل خدا کے ساتھ دنما بازی کی مجرم ہے یا لے چهارم - جناب مودودی صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اعزازی تحریک کا ختم نبوت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے جماعت اسلامی کی پوری مشینری اس کی حمایت میں لگادی۔خود لکھتے ہیں :۔اس کا روائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہو گئیں۔ایک یہ کہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں بلکہ نام اور سہرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان و مال کو اپنی اغراض کے لئے جوئے کے داؤ پر لگا نا چاہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ رات کو بالاتفاق ایک قرار داد ھے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساز باز کی ہے اور ایک دوسرا ریزولیوشن بطور خود لکھ لائے ہیں ہیں نے محسوس کیا کہ جو کام اس نیت اور طریقوں سے کیا جائے اس میں کبھی خیر نہیں ہو سکتی اور اپنی اغراض کے لئے خدا اور رسول کے نام سے کھیلنے والے جومسلمانوں کے سروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کریں اللہ کی تائید سے کبھی سرفراز نہیں ہو سکتے یہ ہے انہوں نے ایک تقریر میں یہ بھی بتایا کہ :- یکی صاف صاف کہتا ہوں کہ ختم نبوت کی تحریک اٹھوائی ہی اس غرض کے لئے گئی تھی کہ مطالبہ نظام اسلامی کو روکا جائے۔اس موقع پر ختم نبوت کی تحریک کے لیڈروں کو بہتر آنجھایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ خدا کے لئے ایک مرتبہ و تقویہ پاس ہو جانے دو اس کے بعد تم اس مسئلے کو اٹھا سکتے ہو خواجہ ناظم الدین ه و سقوری سفارشات پر تنقید اسلامی اور جمہوری نقطۂ نظر سے مصنفہ سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب امر ناشر شعبہ نشر و اشاعت جماعت اسلامی پاکستان * رون امر سلیم کا ہوں کہ جولائی ۱۹۵۵ء (جماعت اسلامی کا آرگین ۲