تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 453 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 453

۴۴۳ کی رپورٹ تیار ہو چکی تھی۔دستور پاس ہونے میں کچھ زیادہ دیر نہیں تھی صرف اتنا کام باقی تھا کہ دستور ساز اسمبلی میں بنیادی اصولوں کی رپورٹ پیش ہوا اور دستور پاس ہو جائے لیکن عین وقت پر ہنگامہ بر پا کر دیا گیا۔۔۔اور بیورو کریسی اس طرح ملک کے سینے پر سوار ہوئی کہ آج تک اس سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سنتا ہے۔یا ہے پنجم۔جناب مولانا ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کے فتنہ و یک ملک کے سب علمائے دین اور مسلمان سیاسی جماعتیں خصوصاً مسلم لیگ گم کردہ راہ اور پاکستان در اصل نا پاکستان بلکہ کافرانہ دریاست تھی چنا نچہ وہ بر ملا برسوں سے اس عقیدہ کا پر زور اعلان کر رہے تھے کہ :۔خواہ مغربی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سیاسی لیڈر ہوں یا علمائے دین و مفتیان شرع مبین دونوں قسم کے رہنما اپنے نظریے اور اپنی پالیسی کے لحاظ سے یکساں گم کردہ راہ ہیں؟ یہ ویسا ہی نا پاکستان ہو گا جیسا ملک کا وہ حصہ جہاں آپ کی اسکیم کے مطابق غیرمسلم حکومت " کریں گے بلکہ خدا کی نگاہ میں یہ اس سے زیادہ نا پاک اس سے زیادہ مبغوض وملعون ہو گا یا اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہو گا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہو گی اس کا نام حکومت آئی رکھنا اس پاک نام کو ذلیل کرتا ہے کے اس نظریہ و مسلک کی موجودگی میں مودودی صاحب جیسے مفکر اسلام کا علماء سے گٹھ جوڑ کر کے پاکستان اسمبلی کے سامنے مطالبہ اقلیت پیش کرنا ان کی اصطلاح میں حاکمیت طاغوت کو تسلیم کرتے کے مترادف تھا۔ششم۔مولانا مودودی صاحب پر حقیقت بھی برسوں سے ببانگ دہل پیش کرتے آرہے تھے کہ عہد حاضر میں صرف اُسی شخصیت سے نظام اسلامی کی تشکیل ممکن ہے جو نبی کی نظر رکھتا ہو۔چنانچہ آنے ال لکھا:۔علماء (الا ماشاء اللہ خود اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہو چکے تھے۔ان پر تو اسلاون کی اندھی له "جماعت اسلامی کے ۲۹ سال ملا ( تقریر سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی امیر جماعت اسلامی مورخه ۲۶ اگست ۱۱۹۷۰) شعبہ نشر و اشاعت جماعت اسلامی پاکستان لاہور طبع اول ستمبر 1966 ہے سے مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم ص ۱۳ مه ده ها گاه