تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 451 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 451

عقل واہم کے منافی تھا۔سوم۔بفرض محال اس مطالبہ کو ملک کے دونوں حصوں کے اکثر باشندوں کی حمایت بھی حاصل ہوتی تب بھی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا فرض تھا کہ وہ عوام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سپریم کورٹ کے اس واضح آئینی و قانونی فیصلہ کے سامنے سر سلیم تم کرنے کو اپنے لئے موجب سعادت کھیتی جو مولانا مودودی صاحب نے ۱۴ اکتوبر ۱۹۵۰ء کو کوچی دروازہ لاہور کے ایک جلسہ عام میں سنایا تھا اور جو انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔اسلامی حکومت کا چوتھا اصول یہ ہے کہ اس میں لوگوں کو بجان، مال اور عزت کے تحفظ کی جو ضمانت دی جائے گی وہ کسی شخص یا گروہ کی طرف سے نہیں بلکہ خدا اور رسول کی طرف سے دی جائینگی اور قانون خداوندی کے سوا کسی دوسرے قانون کے تحت کسی شخص کے ان بنیادی حقوق پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکے گا۔اس دستوری قاعدے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :- " جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم اور کرتے ہیں۔اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ ے یہاں یہ بتاتا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ مسلمانان ہند و پاکستان کی اکثریت کی نسبت مودودی صاحب کی حتمی رائے یہ تھی کہ ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں حقیقی معنی میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ امید رکھنا کہ اُن کے اجتماع سے جو کام بھی ہوگا اسلامی اصول پر رہی ہوگا پہلی اور بنیادی غلطی ہے۔یہ انبو عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں نہ اُن کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو لیس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے اس لئے مسلمان ہیں یا مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم هنگا، جب طبع مہفتم ۱۹۵۵ء - ناشر مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان اچھرہ لاہور) یہ قرآن میں جن کو اہل کتاب کیا گیا ہے وہ آخر نسل مسلمان ہی تو تھے“ (ایضاً ۱۹) پھر عہد حاضر کے مسلمان فرقوں کی نسبت فرماتے ہیں۔مخدا (199) کی شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بناء پر اہلحدیث ، حنفی ، دیوبندی بریلوی ، شیعه ، اشتی وغیرہ الگ الگ منتیں بن سکیں۔یہ اتنیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں ؟ (خطبات طبع چہارم من ناشر مکتبہ جماعت اسلامی دارالاسلام جمالپور پٹھانکوٹ) ہے