تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 449
۴۳۹ دوم۔جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ صرف پاکستان کے اقلیتی طبقوں کا مطالبہ تھا۔چنانچہ مودودی صاحب نے اپنے رسالہ قادیانی مسئلہ میں بھی لکھا کہ :- تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ابھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہوسکتی ہے اور پنجاب و بہاولپور کے سوا دوسرے علاقوں خصوصا بنگال میں ابھی عوام الناس بھی پوری طرح اُس کا نے یہ رسالہ مودودی صاحب نے مارچ ۱۹۵۳ء میں عین اُس وقت شائع کیا جب کہ علماء کی شعلہ افشانیوں نے ملک کو فرقہ وارانہ فسادات کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔جناب غلام احمد صاحب پرویز مدیر طلوع اسلام لکھتے ہیں : ” سب سے زیادہ اہمیت مودودی صاحب کے رسالہ قادیانی مسئلہ کو دی جاتی ہے۔ہمارے نزدیک اس رسالہ کے دلائل اس قدر پوچھے ہیں کہ ان کا تجزیہ کیا جائے تو وہ خود احمدیوں کے حق میں چلے جاتے ہیں یا مزاج شناس رسول ص طبع اول ناشر ادارہ طلوع اسلام کراچی) امریکہ کی ٹفٹس یونیورسٹی (TUFTS UNIVERSITY) میں تاریخ کے پروفیسر مسٹر فری لینڈ ایبٹ (FREELAND ABBOT) نے مڈل ایسٹ جرنل کی سرمائی اشاعت ۱۹۵۷ ء میں قادیانی مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔اس پمفلٹ میں خواہ علمی لحاظ سے کیسے ہی عمدہ دلائل کیوں نہ دیئے گئے ہوں ہر حالی ایک کشیدگی کی موجودگی ہیں اس کی اشاعت یقیناً کھچاؤ میں اضافہ کا باعث ہوئی۔احمدی قبل ازیں ایک مدت سے جماعت اسلامی کی مخالفت میں بہت سرگرم رہے تھے عین ممکن ہے کہ مولانا مودودی اس مخالفت سے سرگراں ہو چکے ہوں اور مولانا موصوف نے مسلم سوسائٹی سے ان لوگوں کے اخراج کا موقعہ غنیمت جان کر یہ پمفلٹ لکھا ہو اور انہیں اس بات کا خیال نہ آیا ہو کہ یہ پیلٹ بھی کشیدگی ہیں اضافہ ہی کرے گا۔۔۔مولانا مودودی کو اس وقت معلوم ہونا چاہئیے تھا کہ وہ در حقیقت ایک بہت بڑے آتش گیر ہم سے کھیل رہے ہیں۔ان کا یہ عدم احساس در حقیقت ایک زبر دست غیر ذمہ داری کے مترادف ہے (ترجمہ) (بحواله رساله و چراغ راه تحریک اسلامی نمبر ۳۶۱ تاریخ اشاعت نومبر ۱۹۶۳ء ناشر اداره چراغ راه کراچی)