تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 448
۴۳۸ قائم رہے گا اور جو لوگ انہیں چھوڑیں گے ان کو کچھ ضرورنہ پہنچائیں گے۔ان احادیث کی روشنی میں زیر بحث حدیث کا مطلب یہ نکلا کہ یہ پوری امت کبھی گمراہ نہ ہوگی بلکہ ایک جماعت خواہ وہ کتنی ہی مختصر ہو حق پر قائم رہے گی اور وہی جماعت ناجی ہے۔اسی کے اُوپر اللہ کا ہاتھ ہے بقیہ سب جہنم میں پڑیں گی۔ان احادیث سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ یہ گروہ نہ کثرت میں ہو گا نہ اپنی کثرت کو اپنے برستی ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا بلکہ اس امت کے ۷۳ فرقوں میں سے ایک ہو گا اور اس معمور دنیا میں ان کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہوگی جیسا کہ فرمایا ہے، بدء الاسلام غريباً وسيعود كما بدء، فطوبى للغرباء هم الذين يصلحون ما افسد الناس بعدى من شئی اسلام غربت میں شروع ہوا اور اسی غربت میں پھر مبتلا ہو گا پس مبارکباد ہے ان اجنبیوں کے لئے جو دوسروں کے بگاڑے ہوئے دین کی اصلاح کریں گے)۔پس جو جماعت محض اپنی کثرت تعداد کی بناء پر اپنے آپ کو وہ جماعت قرار دے رہی ہے جس ہا اللہ کا ہاتھ ہے اور جس سے علیحدہ ہوتا جہنم میں داخل ہونے کے مترادف ہے اس کے لئے تو اس حدیث میں اُمید کی کوئی کرن نہیں۔کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طریقہ پر بیان کر دی گئی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہوگی، دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی یا لے کے له رساله ترجمان القرآن ماه ستمبر و اکتوبر ۱۹۴۵ و منت، خشو سے جناب مولانا احمد علی صاحب امیر انجمن خدام الدین لاہور نے ایک بار خطبہ جمعہ کے دوران بتایا اس عریف شریف کا حاصل یہ نکلا کہ آپ کی امت کہلانے والوں میں ۷۲ فرقے ہوں گے اور فقط ایک فرقہ صحیح معنوں میں آپ کی اُمت کہلانے کا مستحق ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ کھری اُمت کمیاب ہوگی اور کھوئی آفت کی بہتات ہوگی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کھوٹی آنت کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کھری اُمت بہشت میں جائیگی۔نیز معلوم ہوا کہ کھری آنست وہ ہے جو رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم اور صحابہ کرام کے طریقہ پر ہو اور کھوٹی انت وہ ہے جو نام تو اسلام کا لے اور مسلمان کہلائے مگر ان کا دین رسول اللہ والا نہ ہو بلکہ بعد کی ایجاد شده چیزیں ہوں یا آزاد لاہور ۱۷ اکتوریه ۱۹۵۲ء جنگ )