تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 32
تھا مگر جب میں گیا تو میں نے ایسے بل بنانے سے انکار کر دیا اور کہا آپ میٹ منٹ تک MESUREMENT) (500K میں درج کر کے دے دیں میں بل بنا دوں گا لیکن کتاب میں درج نہیں کروں گا۔اس پر وہ بگڑ گیا اور میرے خلاف رپورٹ کر دی اور مجھے معطل کر دیا۔وجہ یہ بھی کہ کہیں اس کو بد معاشی کی وجہ سے حل کرتا ہوں لیکن افسر بالا نے لکھا کہ اس پر چارج شیٹ لگاؤ اور جو اب ایکر بھیجو۔اس وقت جو جرم مجھ پر لگا یا گیا وہ کوئی بھی مجرم نہ تھا بلکہ اس قسم کی باتیں تھیں کہ اس نے فلاں کا غذ پر دستخط کئے ہیں لیکن لفظ پڑتال نہیں لکھا۔ایسی باتوں کا ٹیکس نے مدل جواب دے دیار غیر کیس چل پڑا اور تین مہینہ تک چلتا رہا لیکس نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے درخواست کی جضور کی طرف سے ایک کارڈ پر جواب آیا کہ دعا کی ہے اللہ تعالی رحم کرے گا یا اتفاق سے یہ خط ایک شخص پر سرام ار سیٹ کے ہاتھ آگیا اور اُس نے پڑھ لیا اُس نے مجھے آکر کہا کہ مقدمہ آپ کے حق میں ہو گیا ہے اور آپ بری ہو گئے ہیں۔میں حیران ہوا اور پوچھا کہ آپ کو کیسے علم ہوا؟ اس نے وہ کارڈ مجھے دیا اور کہا اس پر لکھنا ہوا ہے۔میں نے اسے پڑھا اور کہا کہ یہاں تو یہ نہیں لکھا کہ آپ ہری ہو گئے ہیں۔وہ بولا کہ اتنے بڑے خدا کے بندے نے آپ کے لئے دعا کی ہے بھلا آپ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کرسی نہ ہوئی؟ چنانچہ اس خط کے مطابق تھوڑے ہی عرصہ کے بعد یکیں بری ہو گیا اور با وجود اس بات کے کہ یکس کلرک تھا اور جھگڑا ایک انگریز سب ڈویژنل افسر کے ساتھ تھا مگر اس مقدمہ کی تفتیش کے لئے سپرنٹنڈنٹ اور چیف انجنیئر مسٹر مینٹن تک آئے اور خوب اچھی طرح سے انکوائری کی اور مجھے بری کیا ہے ملک صاحب نے محکم تر میں ملازمت کر کے ۱۹۲۷ء میں پیشن حاصل کی۔و اخلاق و عادات عرصه در از تیک جماعت احمدیہ گجرات کے جنرل سیکرٹری اور پھر امیر رہے۔دوران ملازمت اور بعد میں بھی تبلیغ دین کو اپنی غذا بنائے رکھا۔آپ کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو سلسلہ میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی تنقید گزار اور متقی بزرگ تھے باولو العربی اور راست گوئی آپ کا طرہ امتیاز تھا۔بہت دعائیں کرنے والے مستجاب الدعوات ، صاحب سے پیمائش کی کتاب : که در جسر " روایات صحابہ (غیر مطبوعه) مجلد نما م ۳ - ص ۵۹) خود نوشت حالات حضرت ملک برکت علی صاحب مورخه ارجون ۶۱۹۳۹ *