تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 31 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 31

۲۹ کوئی فتوئی نہیں لگاتے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ نہ اُن کی کتابیں پڑھو اور نہ وعظ سنور میں نے کہا کہ کیا آپ نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے ؟ اس پر پیر صاحب ہوش میں آگئے اور کہنے لگے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم ان کی کتابیں پڑھیں علماء نے اُن پر کفر کا فتوئی جو لگا دیا ہے۔ان کا یہ جواب سن کر میرے ذہن میں حضرت اقدس کی تحریرات کا نقشہ کھینچ گیا جس میں حضور نے مخالف علماء کے گھر کے فتوی کا ذکر کر کے فرمایا تھا کہ یہ لوگ نہ میری کتابیں پڑھتے ہیں اور نہ میرے خیالات کو انہیں سننے کا موقعہ ملا ہے مگر محض مولوی محمد حسین کے کہنے پر یک طرفہ فتوی لگا دیا ہے۔میکں نے دلی میں کہا کہ پیر صاحب کی بھی یہی حالت ہے کہ بالکل یک طرفہ فتوی لگا رہے ہیں۔یہ باتیں شنکر میں پیر صاحب سے بدظن ہو گیا اور واپس آکر تحقیقات میں مشغول ہو گیا۔ان ایام میں عبد اللہ آتھم کے متعلق حضور کے اشتہارات نکل رہے تھے اور عیسائیوں کی طرف سے بھی اشتہار سے نکلا کرتے تھے۔لیکن فریقین کے اشتہارات کو ایک فائل کی صورت میں محفوظ کر رہا تھا میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس کی پیش گوئی آتھم کے بارہ میں بالکل صحیح پوری ہو گئی ہے۔اس کے بعد دیکھرام کے متعلق حضور کے اشتہارات اور تحریمات نکلنا شروع ہو گئیں ان کو بھی میں فائل میں محفوظ کر تا گیا۔ان ہر دو واقعات کے گزرنے کے بعد مجھے حضرت اقدس کی صداقت کے متعلق اطمینان ہو گیا اور میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔پھر قریباً ۱۹۰۱ ۱ یا ۱۹۰۲ء میں قادیان بجا کر دستی بیت گیا جب قادیان پہنچے تو مہمان خانہ میں ٹھہرے۔دوسرے دن حضرت اقدس نماز ظہر کے لئے تشریف لائے۔۔۔حضرت اقدس کے زمانہ میں چونکہ مسجد چھوٹی ہوا کرتی تھی اسلئے جب آدمی زیادہ ہوتے تو چھت پر جہاں حضور تشریف فرما ہوتے تھے جہاں کسی کو جگہ مل بہاتی وہ بیٹھ جاتا اور ہمہ تن گوش ہو کر حضور کی باتوں کو نتا۔بعض غیر احمدی معترض ہوتے کہ آپ پیر ہیں اور نیچے بیٹھے ہیں مگر مرید شہ نشین پر اوپر بیٹھے ہیں۔حضرت صاحب فرماتے کہ معذوری ہے جگہ تنگ ہے لوگ مجھے پوجنے کے لئے نہیں آئے بلکہ تقویٰ اور طہارت کی باتیں سننے کے لئے آئے ہیں اور میں تو انسان پرستی کو دور کرنے کے لئے آیا ہوں۔ایک دفعہ جبکہ میں بھجو چرا بنگلہ ہر لوئر جہلم ضلع سرگودہا میں تھا ایک سب ڈویژنل افسر مسٹر ہاور ڈیرے خلاف ہو گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بد دیافت تھا اور پہلے کلرک کے ساتھ مل کر کھایا کرتا