تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 427 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 427

۴۱۷ اسی قادیان کی مقامی احمدی آبادی ہر سال بڑھ رہی تھی۔یوپی چودہ درویش خاندانوں کی واپسی کے بعض خاندان بطور ماہر آباد ہو چکے تھے۔ان کےبعد وسط ۱۳۳۰ ش / ۱۹۵۱ء میں بارہ درویش خاندان پاکستان سے واپس گئے۔اس سال کے آخر میں چودہ خاندانوں کا اضافہ ہوا جو بذریعہ سینی والا رضلع فیروزپور) داخل ہندوستان ہوئے جس سے گل احمدی آبادی کی تعداد ۴۷۹ تک جا پہنچی۔اس آبادی میں مرد ۲۷۰، خواتین ۸۶ اور بچے ۱۳۳ تھے لیے اس سال مندرجہ ذیل میلین اسلام بیرونی دنیا تک پیغام مبلغین اسلام کی آمد ور روانگی اہمیت پہچانے کے لئے مرزا حریت راہ سے روانہ ہوئے۔احمدیت ا۔مولانا شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ (اما تبلیغ مشرقی افریقہ ) ۲۔مولوی عبدالرشید صاحب ارشد (اما تبلیغ انڈونیشیا) س مولوی مبارک احمد صاحب ساقی ۱۳ ماہ اخاء برائے نائجیر یا ) ۴۔مولوی محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپور ( ۱۸ ماه اخاء برائے سیرالیون) ۵ مولوی عبد اللطیف صاحب پریمی ( ۱۸ ماه اخاء برائے نانا ( ۶ مولوی عبد القدیر صاحب شاہد (۱۸ ماه اخاء برائے نانا) علاوہ ازیں غیر ممالک یعنی بیرون پاکستان سے مولوی محمدعثمان صاحب صدیقی ور ماه تبوک) صوفی محمد اسحق صاحب مبلغ سیرالیون (۱۵ شهادت مولوی امام الدین صاحب تین انڈونیشیا اور مولوی بشارت احد صاحب بشیر مبلغ مغربی افریقہ تبلیغ اسلام کا فریضہ کامیابی سے بجالانے کے بعد واپس تشریف لائے۔بیرونی احمدی جماعتوں میں مرکز سلسلہ میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی ایک نئی کرو چل نکلی تھی یہی وجہ تھی کہ ربوہ واپس آنے والے اکثر مبلغین کے ہمراہ مختلف ملکوں کے بعض احمدی طلباء بھی تھے مثلاً علی امین صاحب (مغربی افریقہ) محی الدین صاحب (انڈونیشیا ، عبدالوہاب بن آدم صاحب بشیر بن صالح صاحب (مغربی افریقیہ )۔ان طلباء میں سے عبدالوہاب بن آدم خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو آٹھ سال تک مرکز احمدیت میں تعلیم دین حاصل کرتے رہے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایده اللہ تعالیٰ کے حکم پر حیثیت مبلغ ۲۱ اضاء ۱۳۵۱ ہش / ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو انگلستان پہنچے جہاں آپ ۲ فتح ۱۳۵۳ پیش / ۳- دسمبر ۱۹۷۴ء تک تبلیغ اسلام کے فرائض انجام دیتے رہے اور ہ۔فتح ۳۵۳اہش / ۵ - دسمبر ۱۹۷۴ء سے احمد یسلم من غانا کے انچارج اور امیر کی حیثیت سے اشاعت اسلام ه بعد (قادیان) ۲۱ اخلطه ۱۳۳۱ امیش حث، مصباح (ریوه) ماه مصلح ۱۳۳۲ اش مال : سے محترم مبارک احمد صاحب ساقی جو ا ا را خاء اکتو بر کوروانہ ہوئے تھے کراچی میں موجود تھے کہ موخر الذکر تینوں مجاہدین بھی پہنچ گئے۔سب بذریعہ بحری جہاز عازم لندن ہوئے۔