تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 30 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 30

۲۸ وفات ۲۰ ماه فتح ۱۳۳۰ ش / ۱۲۰ دسمبر ۶۱۹۵۱ ) خود نوشت حالات حضرت ملک صاحب اپنے قبول ، حدیت اور سفر قادیان کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔یں گجرات سے تعلیم حاصل کر کے لاہور میں ملازم ہوگیا۔وہاں جو دفتر کے کلرک تھے انہوں نے پیر سید جماعت علی شاہ کی بیعت کی اور مجھے بھی تحریک کی یکں نے بھی اُن کے کہنے سے پیر صاحب کی معیت کر لی اور ہر روز صبح و شام دفتر کے وقت کے علاوہ اُن کی محبت میں رہنے لگا۔جب عرصہ گزر گیا اور میری طبیعت پر کوئی اثر پیدا نہ ہوا اور نہ ہی یکں نے کوئی روحانی ترقی حاصل کی تو پیر صاحب سے سوال کیا کہ مجھے بیعت کئے ہوئے اس قدر عرصہ گزر گیا ہے مگر میری حالت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔پیر صاحب نے کہا کہ آپ مجاہدات کریں اور اس حد تک میرا تصور کریں کہ میرا نقش ہر وقت آپکے سامنے رہے پھر آپ کو بارگاہ الہی میں رسائی حاصل ہوگی لیکن عرصہ تک اُن کا تصور بھی کرتا رہا۔مجاہدات بھی بڑے کئے مگر کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔اونٹنٹ جنرل کے دفتر میں ایک شخص میاں شرف الدین صاحب ہوا کرتے تھے وہ احمدی تو نہ تھے مگر حضرت صاحب کی کتابیں پڑھا کرتے تھے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو پیر صاحب کی بیعت کئے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا ہے مگر آپ کی حالت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی لیکں نے کہا کہ یکس تو ہر روز پیر صاحب کو یہی کہتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ میری حالت ہیں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اگر یکیں آپ کو کوئی کتاب دوں تو کیا آپ پڑھیں گے یکی نے کہا ضرور آپ دیں لیکن انشاء اللہ ضرور پڑھوں گا۔اس پر انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود على الصلوۃ والسّلام کی ایک کتاب مطالعہ کے لئے دی یکس نے اس کا مطالعہ کیا۔پھر انہوں نے دو مسیری دی۔یہاں تک کہ چار کتابیں میں نے پڑھ لیں۔اس کے بعد ایک دن یکس نے پیر صاحب کی خدمت میں حضرت صاحب کا ذکر اور پوچھا کہ ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے پیر صاحب نے کہا کہ نہ ہم اُن کو اچھا کہتے ہیں نہ ہیرا۔میں اس جواب پر بہت متعجب ہوا مگر اُس وقت خاموش ہو گیا۔ایک روز پھر نیکوں نے یہی سوال کر دیا۔پیر صاحب نے پھر وہی جواب دیا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ ا مگر نہ اُنکی کوئی کتاب پڑھو اور نہ وعظ سُنو " لیکن حیران ہوا کہ ایک طرف تو اُن پر اچھا یا برا ہونے سے متعلق الفضل ، صلح ۱۳۳۱ پیش صد سے علی پور سیداں میں سید جماعت علی شاہ کے نام سے دور پر ہم عصر گزرے ہیں یہاں کونسے مراد ہیں اس کی تحقیر یہ نہیں ہو سکتی ہے