تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 413
۴۰۴ ا۔اساتذہ اور طلبہ کا اردو زبان می گفت گو کرتا ضروری قرار دیا۔ہر صبیح اساتذہ اور طلباء کی اسمبلی میں تلاوت قرآن پاک کے بعد طلباء کو عربی دعائیں کھلوائی جاتی تھیں اور پھر مناسب ہدایات دی جاتی تھیں۔- پریفیکیٹ سسٹم جاری کیا جس کے مطابق ہر کلاس کے نمائندوں کو سکول کے انتظام اور صفائی میں مدد دینے کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔۔اساتذہ کرام سکول کھلنے سے آدھ گھنٹہ پہلے باری باری تشریف لاتے اور صفائی اور دیگر امورہ کی نگرانی فرماتے تھے۔۔۔سیکنڈری حقہ کے طلباء کو چار ایوانوں (NOUSES) ی تقسیم کیا گیاجن کے نام یہ تھے ہمزہ ہاؤس، طارق ہاؤس، خالد ہاؤس، اسامہ ہاؤس۔ہر ایوان باری باری ایک ہفتہ کے لئے سکول کی صفائی کا نگران ہوتا تھا۔اسی طریق کے ماتحت انٹر یا کواس ٹورنامنٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔سکول میں حضرت مصلح موعود کی نئی بھاری فرمودہ تحریکات میں سے تراجم قرآن فنڈ اور وقت زندگی کو مقبول بنانے کی بہت جدوجہد کی گئی جس کے نتیجہ میں اس مالی جہاد کے لئے ایک معقول رقم جمع ہوئی اور بہت سے طلبہ نے اپنی زندگیاں خدمت اسلام کے لئے اپنے پیارے آقا کے حضور پیش کیں سے ۱۹۴۷ء میں ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور سلسلہ احمدیہ کے دوسرے مرکزی تعلیمی اداروں کی طرح تعلیم الاسلام ہائی سکول کو بھی چنیوٹ ضلع جھنگ (پاکستان) میں از سر نو جاری کرتا پڑا۔مارچ ۱۹۵۲ء میں اسے ربوہ میں منتقل کر دیا گیا سکول کی نشاۃ ثانیہ کے یہ ابتدائی پانچ سال بہت کٹھن اور صبر آزما تھے جس میں حضرت شاہ صاحب اور آپ کی زیر نگرانی سکول کے اساتذہ کو تھک محنت اور جد و جہد کرنا پڑی نو دا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے خلیفہ موعود کی دعاؤں کے طفیل اسٹاف کی کوششوں میں یہاں تک برکت ڈالی کہ مئی ۱۹۵۲ء میں سکول کے ایک طالب علم منور احمد صاحب میٹرک کے امتحان میں یونیورسٹی بھر میں اول رہے سعید احمد خان صاحب رحمانی ، بركات التي صاحب • PREFECT System a ے رپورٹ سالانہ صدر جمی احمد یه سال ۱۹۴۳-۱۹۲۷۵ و منت منه