تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 410
۴۰۱ 4 حضرت منشی کرم صلی صاحب کا تب : (ولادت ؟ بیعت و زیارت ۱۸۹۷ء وفات ۱۵ فتح ۳۳۱ ہش ) حضرت قاضی محمدظہور الدین صاحب اکمل کہ آپ کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان فرماتے ہیں :۔ایک وقت تھا کہ قادیان میں نہ کوئی پولیس تھانہ کا اتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے مسودات طبع کرانے کے لئے امرتسر جانا پڑ تا بعض اوقات پا پیادہ ہی چھل پڑتے۔اس قسم کی دقتوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے آخر قادیان پر نہیں دستی قائم ہوگیا۔ابتداء میں حضرت پیر سراج الحق نعمانی اور حضرت پیر منظور محمد صاحبان کتابت کی خدمات بجالاتے اور امرتسری کا تب بھی۔اسی سلسلہ میں منشی کرد علی نصاب بھی آپہنچے اور قادیان کے ہو رہے۔غیر احمدی کا تب اول تو آتے ہی نہ تھے پھر باوجود ڈبل اُجرت اور کھالے وغیرہ کی امداد کے ٹھرتے نہیں تھے مینشی کریم علی صاحب کا خط بہت شستہ تھا۔ریویو آن پیجینز اردو کی کتابت وہی کرتے تھے۔خط محکوم میں بھی ان کو قابل تعریف دسترس حاصل تھی جس سے سنگسازی کی مشکلات حل ہو گئیں۔میں نے دیکھا کہ حقیقۃ الوحی چھپ رہی تھی چھاپنے والے مرنہ اسمعیل بیگ ہی تھے جو حضور کے بچپن کے خادم تھے۔پرون حضور نے جو ملاحظہ فرما کر واپس بھیجا تو قریباً آدھا صفحه عبارت بڑھادی منشی صاحب نے بلا تکلف پتھر پر الٹا کھا چنانچہ جس خوبی سے یہ کام کیا گیا حقیقت الوحی طبع اول کے صفحات سے فتی واقفیت والے دیکھ کر داد دے سکتے ہیں۔پھر حضور کا منشاء تھا کہ چراغ الدین جونی وغیرہ کی تحریروں کا عکس چھپے۔لاہور سے فوٹو کرانے میں کئی وقت میں تھیں، جلدی بھی تھی مینشی صاحب نے باریک کا غذ کاپی کے طور پر رنگ کرائے۔اصل تحریر پر رکھ کر کس نے لیا اور یوں بلا خرچ بہت جلد یہ کام بھی ہو گیا یہ منشی صاحب نے اپنے کئی شاگرد بھی تیار کئے۔بالخصوص منشی اور سین صاحب کا تب بدر جو آخری دم تک بدر اور افضل لکھتے رہے اور سنگسازی بھی کرتے رہے۔جب ریویو اُردو کا چارہ مجھے دیا گیا تومنشی صاحب کی نظر کمزور ہو چکی تھی اور ہاتھ مضبوط نہیں رہا تھا له منشی غلام محمد صاحب نے امرتسری مراد ہیں ؟ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی سوانح عمری مرقاة اليقين في حيات نور الدین (مولفہ اکبرشاه خان نجیب آبادی) کی کتابت بھی آپ ہی نے کی تھی ہے